Bharat Express DD Free Dish

Indian Army

غریب نواز فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا انصار رضا بریلوی نے کہا کہ ہمارے پڑوسی ملک پاکستان کا اسلام یزیدی اسلام ہے اور ہمارے ملک کا اسلام حسینی اسلام ہے۔ دونوں میں بہت فرق ہے۔ پاکستان کا اسلام دہشت گردی کا حامی ہے اور نہتے مظلوموں کا نام پوچھ کرقتل کرنے والا ہے، لیکن ہمارے ملک کا مسلمان حسینی ہے، وہ ہمیشہ صبرکے ساتھ رہتا ہے اورجب ملک اورقوم کواس کی ضرورت پڑتی ہے توآگے بڑھ کراپنی قربانی بھی پیش کرتا ہے۔

پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ گئی تھی۔ امریکی مداخلت کے بعد دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس حوالے سے ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم او کے درمیان بات چیت ہوئی۔

بھارتی فضائی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف بھارت کی نئی حکمت عملی کا اظہار، یہ کارروائیاں”نپی تلی، محدود اور غیر اشتعالی“ نوعیت کی تھیں۔

آپریشن میں دیسی آکاش سسٹم استعمال کیا گیا۔ پاکستان کا چینی نژاد میزائل پی ایل-15 مارگرایا گیا۔ پاکستان کی ڈرون لیزرگن کوبھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے ساتھ پاکستان کے نورخان ایئربیس کو بھی تباہ کردیا گیا۔

آپریشن سندورپرتینوں افواج کی پریس کانفرنس شروع ہوگئی ہے۔ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے ایئرفورس نے کہا، دہشت گردی کے خلاف ہمارا آپریشن کامیاب رہا۔

ٹریومنٹ کے سی ای او آلوک کے سنگھ نے کہا ہے کہ "پاکستان، ترکی اور آذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے، ہم نے ٹریومنٹ میں ایک مضبوط اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کیا ہے۔ ہم نے ترکی اور آذربائیجان کے بائیکاٹ کے ہندوستانیوں کی کال کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"

مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے اتوار کو زور دیتے ہوئے کہا کہ پورا ہندوستان اپنی فوج کی حمایت اور ہند-پاک کشیدہ صورت حال کو سنبھالنے کے حوالے سے حکومت کے ساتھ ہے۔

جموں و کشمیر پولیس کی ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے جنوبی کشمیر میں 20 مقامات پر چھاپے مار کر ایک سلیپر سیل ماڈیول کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس دوران بھاری مقدار میں قابل اعتراض اشیاء برآمد ہوئیں۔ اس کے علاوہ کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے آپریشن سندور کے تحت دہشت گردوں کے کیمپوں پر حملے کے بعد پاکستان کو بھی آگاہ کیا تھا۔ یہ معلومات 7 مئی 2025 کی صبح ڈی جی ایم او کی سطح پر دی گئی۔

کل شام دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان جنگ بندی پر مفاہمت کے بعد سے حالات پرامن ہیں۔