Bharat Express DD Free Dish

Indian Army

کھلاڑیوں کو اعزاز سے نوازنے کے بعد جنرل دھیرج سیٹھ نے کہا، ’’آج کا دن میرے لیے بہت خوشی کا دن ہے، کیونکہ میں نے گزشتہ نصف گھنٹے اپنے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ گزارے ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس جذبے کے ساتھ فوج ملک کی حفاظت کرتی ہے، اسی طرح ان کھلاڑیوں نے بھی دکھایا ہے کہ لگن، سخت محنت اور اسی جذبے کے ساتھ کیا کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

 فوج نے کہا ہے کہ بچاؤ مہم جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر اضافی وسائل بھی فوری طور پر تعینات کیے جائیں گے۔ فوج نے کہا کہ قدرتی آفات کے دوران ملک کے عوام کے ساتھ کھڑا رہنا اس کی ذمہ داری ہے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

جنرل دھیرج سیٹھ نے عہدہ سنبھالتے ہی اپنا وژن ’وجے‘ پیش کیا، جس کا مقصد بھارتی فوج کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ، مستقبل کے چیلنجوں کے لیے تیار اور کثیر جہتی جنگی ماحول میں مؤثر کارروائی کی صلاحیت رکھنے والی فوج میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی ترجیحات میں فوج میں جدید ٹیکنالوجی کا وسیع استعمال اور تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی اشتراک کو مزید مضبوط بنانا شامل ہے۔

جنرل دھیرج سیٹھ نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور صلاحیت سازی سے متعلق اہم ذمہ داریاں بھی نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید کاری، مستقبل کی ضروریات اور نئی ٹیکنالوجی کے مطابق صلاحیتوں کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ اعلیٰ فوجی تعلیم میں بھی نمایاں کارکردگی کے حامل رہے ہیں۔

ثقافتی پروگرام کا آغاز این سی سی کیڈٹس کی پیشکش سے ہوا، جس میں نظم و ضبط، حب الوطنی اور ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج کپواڑہ کے طلبہ نے منشیات سے نجات اور ماحولیاتی تحفظ پر مبنی ایک ڈرامہ پیش کیا۔ اس موقع پر بھارتی فوج نے ’نو یور آرمی‘ نمائش کا بھی اہتمام کیا، جہاں فوج کی صلاحیتوں، جدید آلات، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی میں اس کے کردار کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

بھارتی مسلح افواج کی عملی تیاری اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے تقریباً 4 ہزار کروڑ روپے کے دیکھ بھال اور تکنیکی معاونت پیکیج کو منظوری دی گئی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل سیٹھ کو بھارتی فوج کی جدیدکاری اور مستقبل کی جنگی صلاحیتوں کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کرنے والے افسر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے آرمی ہیڈکوارٹر میں اسٹریٹجک پلاننگ اور کیپبلیٹی ڈیولپمنٹ سے متعلق اہم ذمہ داریاں نبھائیں، جہاں انہوں نے فوج کی جدید جنگی ضروریات، نئی ٹیکنالوجیز کے استعمال اور طویل مدتی فورس اسٹرکچر کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور جلد ہی مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور فوجی دستوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

میجر ابھلاشا براک کو یہ ایوارڈ امن مشنز میں خواتین کے کردار، نمائندگی اور نقطۂ نظر کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق میجر براک نے مقامی برادریوں کے ساتھ اعتماد سازی کے ذریعے ابتدائی انتباہی نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے شہریوں کی حفاظت کو مضبوطی ملی۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ پہلگام میں شہریوں پر حملہ کرنے والوں کو بھارت نے ایسا جواب دیا جس نے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سرپرستوں کو واضح پیغام دے دیا کہ بھارت اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ”آپریشن سندور“ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ملک کے وقار، سلامتی اور عوامی اعتماد کی علامت بن چکا ہے۔