Bharat Express DD Free Dish

India Russia Deal

روس کے صدر ولادیمیر پوتن 4 دسمبر کو دو روزہ دورے پر بھارت پہنچ رہے ہیں۔ یہ ان کا گزشتہ چار سال میں پہلا بھارتی دورہ ہے، جو روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ دہلی میں پوتن کے استقبال اور سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

بھارت اور روس کے تعلقات کی تاریخ نصف صدی سے بھی زیادہ پرانی اور اعتماد پر مبنی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ دفاعی اور تجارتی میدانوں میں بھی ایک دوسرے کے قریبی شراکت دار رہے ہیں۔ اسی دوستی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے آئندہ ماہ بھارت کے مجوزہ دورے کی تیاریاں کریملن نے باضابطہ طور پر شروع کر دی ہیں۔

بھارت اور روس کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے مقصد سے فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن روس کے دارالحکومت ماسکو میں ہونے والے مائٹیکس انٹرنیشنل ٹولز ایکسپو 2025 میں شرکت کرنے جا رہا ہے۔ یہ بین الاقوامی تقریب 11 سے 14 نومبر تک منعقد کی جائے گی، جس میں دنیا بھر سے انجینئرنگ اور ٹول انڈسٹری سے وابستہ کمپنیاں شریک ہوں گی۔

ٹرمپ کے دعووں کے بعدہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، ہندوستان تیل اور گیس کا ایک اہم درآمد کنندہ ہے۔ توانائی کے اتار چڑھاؤ والے منظر نامے میں ہندوستانی یوزرکے مفادات کا تحفظ ہماری مستقل ترجیح رہی ہے۔

کمار نے واشنگٹن کے اس فیصلے کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناجائز" قرار دیا اور کہا کہ ہندوستانی حکومت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان تجارت باہمی مفادات اور منڈی کے عوامل پر مبنی ہے۔

امریکی پابندیوں اور محصولات کے باوجود، جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے روس سے تیل خریدتا رہے گا، کیونکہ یہ فیصلے مارکیٹ حالات اور اقتصادی استحکام کے پیش نظر کیے جاتے ہیں۔

پی ایم مودی نے اس بات چیت کے بارے میں ایکس پر پوسٹ کیا اور لکھاکہ میں نے اپنے دوست صدر پوتن کے ساتھ بہت اچھی اور تفصیلی بات چیت کی ہے۔ میں نے یوکرین پر تازہ ترین پیش رفت کو شیئر کرنے کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

پوتن کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری  نہ روکنے پر بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اجیت ڈوول کے دورہ روس سے پہلے، ماسکو نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے انتخاب کے ہندوستان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

پیٹرولیم کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ روس سے خام تیل کی خریداری مکمل طور پر بند کرنا آسان نہیں ہے۔ کیونکہ تمام ممالک اپنی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے لیتے ہیں۔

مرکزی وزیر نے کہاکہ روسی خام تیل کی قیمت ہمیشہ 60 ڈالرفی بیرل کی حد کے اندر رہی ہے، لیکن اس پر کبھی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ ہندوستان پابندیوں کے تحت کسی بھی ملک سے خام تیل نہ خریدنے کے اپنے موقف پر قائم ہے۔