Bharat Express DD Free Dish

India politics

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کا سیاسی استعمال ہو رہا ہے۔

اسدالدین اویسی نے آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ ریاست میں نفرت کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی سیاست نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ ریاست کی ترقی میں بھی رکاوٹ بنتی ہے۔ 

2018 کے احتجاج کے دوران درج مقدمات کو ختم کرنے اور متاثرہ نوجوانوں کو راحت دینے کی اپیل۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان تمام مقدمات کو یا تو ختم کیا جائے یا واپس لیا جائے تاکہ ان نوجوانوں کو طویل قانونی کارروائیوں کے بوجھ سے نجات مل سکے اور وہ اپنی زندگی کو بہتر طریقے سے آگے بڑھا سکیں۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان کے بعد مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں ایل پی جی کی دستیابی کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف وہ حکومت پر تنقید کر رہی ہے اور دوسری طرف اس کے سینئر رہنما اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں۔ 

’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘ پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری عمل کے لیے بوتھ سطح پر سرگرمی نہایت اہم ہوتی ہے، اور کارکنان کی محنت ہی پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ ایک ہی مرحلے میں 9 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ آسام میں اس بار حکمراں بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

پرینکا گاندھی نے کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین کی قیادت والی بائیں بازو کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت بی جے پی کے ساتھ خفیہ ہم آہنگی رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امت شاہ نے اپنی تقریر میں ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری، خواتین کی سلامتی کے مسائل اور غیر قانونی دراندازی جیسے مسائل بڑھ گئے ہیں۔

کیرالہ اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 23 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ ریاست میں اصل مقابلہ بی جے پی-این ڈی اے، ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے درمیان متوقع ہے۔