چھندواڑہ، مدھیہ پردیش: کانگریس کے سینئر رہنما اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیراعلیٰ کمل ناتھ نے ریاست میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت میں ایسی کوئی کمی موجود نہیں، بلکہ اس حوالے سے ایک مصنوعی ماحول بنایا جا رہا ہے۔ ان کے اس بیان نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ خود کانگریس پارٹی کے موقف پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایل پی جی بحران کے دعوے مسترد
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کمل ناتھ نے واضح طور پر کہا کہ ریاست میں کھانا پکانے والی گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ان کے مطابق کچھ عناصر جان بوجھ کر افواہیں پھیلا رہے ہیں تاکہ عوام میں بے چینی پیدا ہو اور سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی خبروں پر یقین نہ کریں اور حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سپلائی کا نظام مجموعی طور پر معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
پارٹی کے موقف سے اختلاف
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کانگریس پارٹی مسلسل مرکز اور ریاستی حکومتوں پر ایل پی جی سپلائی میں تاخیر اور قلت کے الزامات عائد کر رہی ہے۔ پارٹی کے کئی رہنما اسے عوامی مسائل سے جوڑتے ہوئے حکومت کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم کمل ناتھ کا یہ بیان اس مہم سے مختلف نظر آتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، اس طرح کا متضاد بیان کانگریس کی حکمت عملی کو کمزور کر سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارٹی اس مسئلے کو انتخابی موضوع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سیاسی ماحول اور الزامات
کمل ناتھ نے بالواسطہ طور پر حکمراں جماعت بی جے پی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایسے معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد عوام کی توجہ دیگر اہم مسائل سے ہٹانا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حقیقت پر مبنی گفتگو ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو درست معلومات فراہم کی جا سکیں۔ اگرچہ کئی علاقوں سے ایل پی جی سلنڈروں کی فراہمی میں تاخیر اور لمبی قطاروں کی شکایات سامنے آئی ہیں، تاہم کمل ناتھ کے مطابق مجموعی طور پر صورتحال قابو میں ہے۔ مقامی سطح پر لوگوں کی رائے بھی مختلف ہے۔ کچھ صارفین نے حالیہ دنوں میں تاخیر کی شکایت کی، جبکہ دیگر کا کہنا ہے کہ انہیں معمول کے مطابق گیس دستیاب ہو رہی ہے۔
کانگریس کے مشکل صورتحال
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس بیان کے بعد مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں میں ایل پی جی کی دستیابی کو لے کر سیاسی بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس کے لیے یہ ایک مشکل صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ ایک طرف وہ حکومت پر تنقید کر رہی ہے اور دوسری طرف اس کے سینئر رہنما اس دعوے کی تردید کر رہے ہیں۔ اس پورے معاملے نے نہ صرف ایل پی جی سپلائی کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے بلکہ سیاسی بیانیے میں تضاد کو بھی نمایاں کر دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

