Bharat Express DD Free Dish

Bengal Assembly elections: بی جے پی کو روکنے کے لیے اتحاد ضروری، ورنہ اگلے پانچ سال سکون سے نہیں گزرسکیں گے: ممتا بنرجی

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کا سیاسی استعمال ہو رہا ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز آنے والے اسمبلی انتخابات سے قبل عوام سے اپیل کی کہ اگر وہ اگلے پانچ سال سکون اور امن کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں تو انہیں متحد ہو کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ مذہبی منافرت کو ہوا دے رہی ہے، ریاست میں بدامنی پیدا کر رہی ہے اور خاص طور پر مالدا کے مقامی لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

بی جے پی پر مذہبی تقسیم اور بدامنی پھیلانے کا الزام

مانک چک میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی ملک کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور وہ کسی بھی مذہب کا احترام نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کی ثقافت کو سمجھے بغیر بی جے پی اپنی من گھڑت مذہبی سوچ مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’ماں کالی کے پرساد میں مچھلی اور گوشت شامل ہوتا ہے، تو پھر بی جے پی کس مذہب کی بات کر رہی ہے؟ پہلے انہیں بنگال کی تہذیب کو سمجھنا چاہیے۔‘‘ وزیراعلیٰ نے عوام کو اشتعال انگیزی سے بچنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی دانستہ طور پر حالات خراب کرنا چاہتی ہے تاکہ مختلف علاقوں سے لوگوں کو گرفتار کیا جا سکے۔ ان کے مطابق مالدا میں بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مرکزی ایجنسیوں کے استعمال اور این آر سی کا خدشہ

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے)، سی بی آئی، ای ڈی، بی ایس ایف اور سی آئی ایس ایف جیسی مرکزی ایجنسیاں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان بنگال میں خفیہ مفاہمت ہے، جس کا مقصد ان کی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عوام نے دیگر جماعتوں کو ووٹ دیا تو این آر سی نافذ کیا جا سکتا ہے اور لوگوں کو حراستی کیمپوں میں بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت کسی بھی شہری کو ایسے کیمپوں میں نہیں جانے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک بھی ووٹ دوسری پارٹی کو نہ دیں، ورنہ این آر سی آئے گا اور اس کے بعد ڈیٹنشن کیمپ بنائے جائیں گے، لیکن ہماری حکومت کسی کو بھی وہاں جانے نہیں دے گی۔‘‘

انتخابی ماحول، مہنگائی اور عوامی حقوق کا مسئلہ

ممتا بنرجی نے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ لوگوں کے ووٹنگ حقوق چھیننے اور ریاست کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے امیدواروں کو ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعے ڈرایا اور دباؤ ڈالا جا رہا ہے تاکہ وہ بی جے پی کی حمایت کریں۔ انہوں نے مہنگائی کے مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر چیز کی قیمت بڑھ رہی ہے، لیکن عوام کی زندگی کی قدر کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دیگر ریاستوں میں بنگالی بولنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مزدوروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے واپس آنے سے روکا جا رہا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے واپس آئیں اور جمہوری طریقے سے بی جے پی کو جواب دیں۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس ایک بار پھر اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بی جے پی ریاست میں اپنی سیاسی پکڑ مضبوط کرنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read