Bharat Express DD Free Dish

India politics

وزیراعظم نے کھیل اور قوم کی تعمیر کے لیے پیس کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو ٹینس میں پیس کی کامیابیوں پر فخر ہے اور ملاقات کے دوران مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ لینڈر پیس منگل کو نئی دہلی میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کی موجودگی میں باضابطہ طور پر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔

آسام اسمبلی کی تمام 126 نشستوں کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ایک ہی مرحلے میں ہوگی جبکہ نتائج 4 مئی کو آئیں گے۔ یہ انتخابات حکمراں بی جے پی-این ڈی اے اتحاد اور کانگریس کے درمیان اہم مقابلہ ہوں گے، جہاں این ڈی اے تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرے گا جبکہ کانگریس واپسی کے لیے میدان میں ہے۔

ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ جہاں ایک طرف 60 لاکھ سے زائد حقیقی ووٹرز کی درخواستیں زیر التوا ہیں اور غلط عمل کے باعث 200 سے زائد افراد جان گنوا چکے ہیں، وہیں الیکشن کمیشن مشتبہ طور پر بڑی تعداد میں جعلی درخواستوں کو تیزی سے نمٹا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپریم کورٹ کے احکامات کے بھی خلاف ہے اور مغربی بنگال میں آزاد و منصفانہ انتخابات پر براہِ راست حملہ ہے۔

پلکّڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ پر الزام لگایا کہ دونوں اتحاد دہائیوں سے باری باری حکومت کر کے ریاست کو ’’لوٹتے‘‘ رہے ہیں۔

کانگریس کی ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ پروگرام بھارت اور امریکہ کے درمیان ہوئے عبوری تجارتی معاہدے کے خلاف منعقد کیا گیا تھا، جس میں کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے بھی موجود تھے۔

وجے دشمی کے موقع پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ آج ملک کے نوجوانوں میں حب الوطنی اور اپنی ثقافت پر اعتماد بڑھ رہا ہے۔ آرایس ایس اور دیگر سماجی تنظیمیں نیک نیتی کے ساتھ عوامی خدمت میں مصروف ہیں۔

آرایس ایس سربراہ نے پڑوسی ممالک کی بدلتی صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال میں عوامی بے اطمینانی کی بنیاد پر حکومتوں کی تبدیلیاں ہوئیں جو ہمارے لیے سبق آموز ہیں۔

آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات میں وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’دراندازوں سے پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلی سماجی ہم آہنگی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ یہ سوال ہماری اندرونی سلامتی اور مستقبل سے جڑا ہے۔ اسی لیے میں نے لال قلعے سے ’ڈیموگرافک مشن‘ کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں چوکس رہنا ہوگا اور اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔‘‘

کانگریس نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ’شخصیت پر مبنی سفارت کاری‘ کو بڑا دھچکا لگا ہے، حکومت ہند نے معاملے پر گہری نظر رکھنے کا اعلان کیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے اراکین پر مشتمل الیکٹورل کالج میں این ڈی اے کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے رادھاکرشنن کی کامیابی تقریباً یقینی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک بھی اپنے امیدوار کے نام پر غور کر رہا ہے اور اس کیلئے 18 اگست کو میٹنگ طلب کی گئی ہے۔