Bharat Express DD Free Dish

India politics

چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ملک کے انتخابی نظام میں نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، اور اس عہدے کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے سخت آئینی تقاضے پورے کرنا ضروری ہوتا ہے۔ پارلیمانی قواعد کے مطابق ایسی کسی بھی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے چیئرمین کی منظوری لازمی ہوتی ہے، اور اسی مرحلے پر اس نوٹس کو روک دیا گیا ہے۔

ہوجائی اسمبلی نشست پر بی جے پی کے شیلادتیہ دیو کا مقابلہ کانگریس کی جِھلی چودھری سے ہے۔ آسام کی تمام 126 نشستوں پر ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ وزیراعظم نے عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ اس بار بھی بی جے پی-این ڈی اے کو ریاست میں تاریخی کامیابی حاصل ہوگی۔

پڈوچیری میں اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ امت شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایک بار پھر این ڈی اے حکومت کو منتخب کریں تاکہ ترقیاتی کاموں کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں لکھا کہ مضبوط ارادہ وہ قوت ہے جو بڑی سے بڑی مشکل کو بھی آسان بنا دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے کارکنان اس کی زندہ مثال ہیں، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے پارٹی کو بلندیوں تک پہنچایا۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ 2047 تک ’’ترقی یافتہ بھارت‘‘ کا خواب پورا کرنے کے لیے اسی جذبے اور خدمت کے عزم کو برقرار رکھنا ہوگا، جو پارٹی کے ابتدائی دنوں میں تھا۔

امت شاہ نے کہا کہ بی جے پی کی اصل طاقت اس کے کروڑوں کارکنان ہیں، جنہوں نے پارٹی کو ’’صفر سے شکھر‘‘ تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ جب پارٹی کے پاس پارلیمنٹ میں صرف دو نشستیں تھیں، تب بھی کارکنان نے حوصلہ نہیں ہارا اور مسلسل جدوجہد جاری رکھی۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ بی جے پی کا قیام محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ ملک کی ثقافتی اور سیاسی شناخت کو بحال کرنے کے لیے ہوا تھا۔  انہوں نے شیاما پرساد مکھرجی اور دین دیال اپادھیائے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پارٹی کو 140 کروڑ ہندوستانیوں کی امیدوں کا ترجمان قرار دیا۔

وزیرداخلہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ اس کی پالیسیوں کی وجہ سے آسام دراندازوں کا مرکز بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت دراندازی کے خلاف سخت کارروائی کرے گی اور ریاست کی ثقافت، زمین اور عوام کے حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گی۔

وزیر اعظم نے ریاست کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے ایل ڈی ایف اور یوڈی ایف پر الزام لگایا کہ انہوں نے باری باری اقتدار میں رہ کر بھی ریاست کو مضبوط ترقی نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اور بلیو اکانومی جیسے شعبوں میں بے پناہ امکانات کے باوجود کیرالہ پیچھے رہ گیا ہے۔

کیرالہ اسمبلی انتخابات 9 اپریل کو منعقد ہوں گے جبکہ نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔ ان انتخابات کو ریاست کی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں بی جے پی اپنی موجودگی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ دیگر بڑی جماعتیں بھی بھرپور مقابلے کے لیے میدان میں ہیں۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اگر کیرالہ میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں این ڈی اے حکومتیں قائم ہیں، وہاں ترقی کے وہ کام انجام دیے گئے ہیں جو گزشتہ 50 سے 60 برسوں میں نہیں ہوسکے تھے۔