Bharat Express DD Free Dish

India politics

واضح رہے کہ 13 اپریل 1919 کو امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج کی اندھا دھند فائرنگ میں سیکڑوں بے گناہ ہندوستانی جاں بحق ہوئے تھے۔ یہ سانحہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور اس نے پورے ملک کو انگریزوں کے خلاف متحد کر دیا۔ یہ دن آج بھی شہداء کی عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور قوم کو آزادی، اتحاد اور حب الوطنی کے اصولوں پر قائم رہنے کا پیغام دیتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ’’میرا بوتھ-سب سے مضبوط‘‘ پروگرام بی جے پی کی اس حکمتِ عملی کا حصہ ہے جس کے تحت پارٹی اپنے نچلی سطح کے کارکنان کو متحرک اور منظم کرنا چاہتی ہے۔ اس طرح کے پروگرام نہ صرف کارکنان کے حوصلے بلند کرتے ہیں بلکہ پارٹی قیادت کو زمینی حقائق سے بھی باخبر رکھتے ہیں۔ 

وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند رکھیں اور خاص طور پر سندیش کھالی جیسے علاقوں میں خواتین کے استحصال کو نظرانداز کیا گیا۔ آرجی کر کیس کی متاثرہ خاتون کی والدہ رتنا دیبناتھ کو بی جے پی نے پانی ہاٹی سیٹ سے امیدوار بنایا ہے جس سے انتخابی سیاست میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس موقع کو ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر دیکھیں اور خواتین کی بااختیار بنانے کی اس تاریخی کوشش میں متحد ہو جائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف انتخابات کے دوران مغربی بنگال کا رخ کرتے ہیں، جبکہ قدرتی آفات یا سیلاب کے وقت نظر نہیں آتے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ ’’موسمی پرندے" کی طرح صرف ووٹ مانگنے آتے ہیں۔

پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو لکھے گئے خط میں الزام لگایا کہ ریٹرننگ آفیسر پورنیما دے نے 10 اپریل کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کانٹریکٹ ملازمین کو سیکٹر اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ سیکٹر آفیسر کے طور پر تعینات کیا۔

وزیراعظم مودی کی یہ تقریر واضح طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے قانون و انتظام، دراندازی اور عوامی سلامتی جیسے مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بنایا۔ آنے والے انتخابات میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عوام ان الزامات اور وعدوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ریاست کی سیاسی سمت کیا رخ اختیار کرتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔

وزیراعظم مودی نے مغربی بنگال کی معیشت کے ایک اہم شعبے یعنی ماہی گیری پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بنگال میں مچھلی کی بہت زیادہ طلب ہونے کے باوجود ریاست خود کفیل نہیں بن سکی، جو کہ ایک بڑی ناکامی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ آج بھی بنگال کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیگر ریاستوں سے مچھلی درآمد کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہاں قدرتی وسائل اور مواقع وافر مقدار میں موجود ہیں۔