Bharat Express DD Free Dish

Bengal Elections: مغربی بنگال میں بی جے پی کا 500 سے زائد انتخابی ریلیوں کا پلان، وزیراعظم مودی 11 جلسوں سے کریں گے خطاب

پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

کولکاتا: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں اور تمام بڑی جماعتیں اپنی پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتر آئی ہیں۔ اسی سلسلے میں بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے قبل ریاست بھر میں 500 سے زائد انتخابی ریلیاں منعقد کرے گی۔ پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سرکردہ قیادت کی وسیع پیمانے پر شرکت

بی جے پی کی انتخابی مہم میں اعلیٰ قیادت سرگرم کردار ادا کر رہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی 11 بڑی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے، جبکہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ تقریباً 30 جلسوں میں شرکت کریں گے۔ اسی طرح پارٹی کے دیگر سرکردہ رہنما بھی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، جن میں راجناتھ سنگھ، نتن گڈکری، یوگی آدتیہ ناتھ اور اسمرتی ایرانی شامل ہیں۔ آسام کے وزیراعلیٰ ہمنتا بسوا سرما، تریپورہ کے وزیراعلیٰ مانک ساہا اور اداکارہ سے سیاست دان بننے والی کنگنا رناوت بھی مختلف ریلیوں میں حصہ لیں گی۔ ریاستی سطح پر بھی بی جے پی کے رہنما سرگرم ہیں، جہاں پارٹی کے ریاستی صدر سمیت دیگر لیڈران متعدد عوامی جلسوں اور ریلیوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔

پوئیلا بیساکھ سے مہم میں نیا رخ، نتائج پر نظریں

بی جے پی نے اعلان کیا ہے کہ بنگالی نئے سال ’’پوئیلا بیساکھ‘‘ یعنی 15 اپریل سے روزانہ پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں پارٹی اپنے انتخابی منشور کے مختلف نکات کو عوام کے سامنے تفصیل سے پیش کرے گی۔ اس دوران وزیراعظم نریندر مودی نے مشرقی بردوان کے کٹوا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال میں اس بار عوامی جوش و خروش غیر معمولی ہے اور انہوں نے ایسا منظر اس سے قبل کہیں نہیں دیکھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 مئی کے بعد ریاست میں بڑی سیاسی تبدیلی آئے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آتی ہے تو گزشتہ 15 برسوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانیوں پر ایک وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ یہ انتخابات ریاست کی سیاسی سمت طے کرنے میں نہایت اہم مانے جا رہے ہیں، جہاں بی جے پی اور آل انڈیا ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read