Bharat Express DD Free Dish

Bengal Elections

اسمبلی حلقے میں 21 مئی کو دوبارہ پولنگ کرائی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے 29 اپریل کو ہوئے اسمبلی انتخابات کے دوران بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور جمہوری عمل میں رکاوٹوں کے الزامات کے بعد ری پولنگ کا حکم دیا تھا۔

سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔

ایگزٹ پول کے بعد سیاسی بیانات میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حتمی تصویر 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی واضح ہوگی، جب یہ طے ہوگا کہ مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں میں اقتدار کس کا قبضہ ہوگا۔

مغربی بنگال، آسام، تمل ناڈو، کیرالا اور پڈوچیری میں ووٹنگ کے بعد نظریں شام ساڑھے چھ بجے کے اوپینین پول پر مرکوز۔ جیسے ہی ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگا، میڈیا ادارے اور سروے ایجنسیاں اپنے اوپینین پولز جاری کریں گی۔ یہ نتائج نہ صرف ان ریاستوں بلکہ ملک بھر کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دیں گے، جبکہ اصل فیصلہ 4 مئی کو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آئے گا۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے دوسرے اور آخری مرحلے میں 142 نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ صبح 7 بجے سے شروع ہونے والی اس ووٹنگ میں 3.12 کروڑ سے زائد ووٹر 1,448 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کر رہے ہیں۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے اور آخری مرحلے کے لیے انتخابی مہم پیر کی شام 6 بجے اختتام پذیر ہو گئی، جس کے ساتھ ہی 48 گھنٹوں کا سائلنس پیریڈ نافذ ہو گیا ہے۔ اب 29 اپریل کو ریاست کی 142 اسمبلی نشستوں پر سخت سکیورٹی کے درمیان ووٹنگ ہوگی، جس میں لاکھوں ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

بیراک پور اسمبلی حلقہ، جو مغربی بنگال کے شمالی 24 پرگنہ ضلع میں واقع ہے، دوسرے مرحلے کی ووٹنگ میں ایک سہ رخی مقابلے کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ترنمول کانگریس، بی جے پی اور سی پی آئی (ایم) کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ماتوا اور نامشودر برادریوں کو یقین دلایا کہ انہیں کسی قسم کے خوف کی ضرورت نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بننے کے بعد شہریت دینے کے عمل کو مزید تیز کیا جائے گا۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بھوانی پور حلقہ سیاسی طور پر نہایت اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ یہاں ان کا مقابلہ بی جے پی کے سینئر رہنما سویندو ادھیکاری سے متوقع ہے۔ سویندو ادھیکاری نے 2021 کے اسمبلی انتخابات میں نندی گرام سیٹ پر ممتا بنرجی کو شکست دی تھی، جس کے بعد انہوں نے بھوانی پور سے ضمنی انتخاب لڑ کر اسمبلی میں واپسی کی تھی۔