Bharat Express DD Free Dish

India Pakistan War

بھارت اس سے خوفزدہ نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چکلالہ، رفیقی، رحیم یار خان، اور سکھر کے اڈوں پر حملے کیے، جو اسلام آباد سمیت اہم مقامات ہیں۔

وزیراعظم نریندرمودی کی رہائش گاہ پر وزیردفاع راجناتھ سنگھ، قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈوبھال، سی ڈی ایس اورتینوں افواج کے سربراہ کے ساتھ چل رہی ہائی لیول میٹنگ ختم ہوگئی ہے۔

سمبت پاترا نے کہا کہ ہندوستانی مسلح افواج نے پاکستان اور پی او کے میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانے تباہ کر دیئے۔ اس میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ 10 مئی کو پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارت  کے ڈی جی ایم او کو فون کرکے جنگ بندی کی پیشکش کی تھی۔

ڈی جی ایم او لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی نے کہا کہ جھڑپ میں 35-40 پاکستانی فوجی مارے گئے اور نئی دہلی نے اپنے اہداف حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان نے دوبارہ  کچھ کرنے  کی ہمت کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

محمد ادیب نے کہا کہ پڑوسی ملک کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ دہشت گردی کو فروغ دینا خطے میں قیام امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی کا دشمن نہیں ہو سکتا لیکن اگر بھارت کے امن و امان کو چیلنج کیا جائے گا تو وہ خاموش بھی نہیں بیٹھ سکتا ہے ۔

راج ناتھ سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ مجھے آپ سے بات کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔ میں ذاتی طور پر اس میں شرکت کرنا چاہتا تھا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ میں کیوں نہیں کر سکا۔

آپریشن سندورکے دوران بھارت نے 90 منٹ تک پاکستان کے بڑے ایئربیس پر  حملے کئے۔ ان حملوں نے پاکستان کے برتری کے دعوے کو خاک میں ملا دیا۔

پاکستانی فورسز نے آر ایس پورہ سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد پر بی ایس ایف کی یونٹ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر محمد امتیاز شہید ہوگئے۔ بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی کہ امتیاز اپنی یونٹ کے سات دیگر اہلکاروں کے ساتھ زخمی ہوئے تھے۔

گزشتہ ماہ22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد، ہندوستان نے (6-7 مئی) کی درمیانی رات آپریشن سندور شروع کیاتھا، جس کے تحت پاکستان میں داخل ہو کر دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔