Bharat Express DD Free Dish

India-Pakistan conflict

آپریشن سندور کے حوالے سے اپنے پہلے بیان  میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ ہندوستانی فوج نے تیاری کے مطابق، بغیرکسی غلطی کے کارروائی کوانجام دیا ہے۔ یہ ہمارے لئے فخرکا لمحہ ہے۔ وزیراعظم مودی نے  اس کیلئے فوج کی تعریف کی۔

ہندوستانی فضائیہ نے آپریشن سندور میں جدید ترین اور ہائی ٹیک ہتھیاروں، اسکلیپ کروز میزائلوں سے لیس رافیل جیٹ اور LMS (لاجسٹک مینجمنٹ سسٹم) ڈرون کا استعمال کیا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قوم افواج کی جرات کو سلام پیش کرتی ہے، ہر جارحیت کا بھرپور مقابلہ کریں گے، عالمی برادری بھارت کو غیرقانونی اقدامات پر جوابدہ بنائے، پاکستان امن کا حامی ہے لیکن خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

اس آپریشن سندور کے تحت بہاولپور میں مولانا مسعود اظہر کے مدرسے پر چار میزائل داغے گئے ہیں۔ بڑی تعداد میں شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اس  حملے میں مسعود اظہر کے خاندان  کے14 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

فیکٹ چیک ایجنسیوں کی جانب سے کی گئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ پیغامات جعلی ہیں اور ان کا کوئی سرکاری ثبوت نہیں ہے۔اس لئے  شہریوں سے گزارش  کی گئی ہے کہ وہ ایسی غیر مصدقہ خبروں کو آگے نہ بڑھائیں۔

پاکستان کی واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی کے مطابق خان پور ڈیم میں صرف ایک ماہ کا اور راول ڈیم میں 3 ماہ کا پانی بچا ہے۔ لگاتار خشک سالی اور بے حد کم بارش کی وجہ سے شہر کے یہ 2 بڑے آبی ذخائر خشک ہو رہے ہیں

پہلگام دہشت گردانہ حملہ سے متعلق معروف دانشور ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ پاکستان نے حملہ کرایا، اس کا جواب تو دینا ہی چاہئے، لیکن ہمارے ملک کی حکومت کی ناکامی کے لئے وزیرداخلہ امت شاہ کو ذمہ داری لیتے ہوئے معافی مانگنی چاہئے۔

وزارت داخلہ نے کئی ریاستوں سے کہا ہے کہ وہ 7 مئی کو شہری دفاع کے لیے ایک مشق کریں۔ موک ڈرل کے دوران فضائی حملے کی وارننگ دینے کے لیے سائرن بجائے جائیں گے۔ حملے کی صورت میں خود کو بچانے کے لیے شہریوں، طلبہ وغیرہ کو شہری دفاع سے متعلق تربیت دی جائے گی۔

4 اہم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پاکل دول (1000 میگاواٹ)، کرو (624 میگاواٹ)، کوار (540 میگاواٹ) اور رتلے (850 میگاواٹ) چناب ندی اور اس کی معاون ندیوں پر زیر تعمیر ہیں اور 28-2027 تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر نو سال کی بات چیت کے بعد 1960 میں دستخط کیے گئے تھے، جس میں عالمی بینک نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ عالمی بینک کے سابق صدر یوجین بلیک نے اس بات چیت کا آغاز کیا تھا۔