Bharat Express DD Free Dish

Home Ministry

مرکزی وزیر داخلہ و تعاون، امیت شاہ نئی دہلی میں ’سہکاری کمبھ 2025‘  کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام میں قومی اور بین الاقوامی ماہرین شرکت کریں گے اور کوآپریٹو بینکنگ میں نئی پہل پر غور کریں گے۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر یہ بھی دوہرایا کہ مرکزی حکومت نکسل ازم کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ہم 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔‘‘

نیپال میں حالیہ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔

رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر نے بھاگلپور کے ایس ایس پی کو تحقیقات سونپیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ان دونوں پاکستانی خواتین کے نام پر ووٹر شناخت کارڈ ای پک نمبر سمیت بن چکے ہیں۔ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے بعد انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈارکا کہنا ہے کہ جموں و کشمیرکے عوام نے اپنا مینڈیٹ دیا ہے اوراپنے نمائندوں کو منتخب کیا ہے۔ منتخب نمائندے ہی مقامی لوگوں سے متعلق معاملات کوآگے بڑھائیں گے، ایسے میں نامزد اراکین کیا کریں گے۔ عمران نبی ڈار نے کہا کہ یہ جمہوریت کا قتل ہے۔ یہ وزارت داخلہ کا جواب ہے، جسے ہائی کورٹ نے مرکزسے طلب کیا ہے۔

سی اے اے کے قواعد 11 مارچ 2024 کو نافذ کیے گئے تھے، جو دسمبر 2019 میں منظور شدہ قانون کے نفاذ کا راستہ ہموار کرتے ہیں۔ اس قانون کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والی ہندو، سکھ، جین، بودھ، پارسی اور عیسائی برادریوں کے افراد کو شہریت دی جانی ہے۔

دونوں ممالک نے ’’مجرمانہ معاملات میں باہمی قانونی مدد‘‘ کے معاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے کا خیرمقدم کیا اور نظرثانی شدہ حوالگی کے معاہدے کے جلد اختتام کی طرف کام کرنے پر اتفاق کیا۔

جگدیپ دھنکھڑ  نے ہندوستان کی اقتصادی ترقی اور بے مثال ترقی کو دیکھنا ایک اعزاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اس تبدیلی کے دور میں خدمت کرنا ایک حقیقی اعزاز رہا ہے۔‘‘ اپنے استعفیٰ کے ساتھ، انہوں نے ہندوستان کی عالمی ترقی اور مستقبل میں غیر اٹوٹ اعتماد کا اظہار کیا۔

میٹنگ کے بعد قیاس لگایا جا رہا ہے کہ دہلی ماسٹر پلان 2041 کو جلد ہی حتمی شکل دے کر نافذ کیا جائے گا تاکہ دہلی کے شہریوں کو جدید سہولیات، بہتر شہری نظام، اور ماحول دوست انفراسٹرکچر فراہم کیا جا سکے۔ اس ماسٹر پلان کو دہلی کی طویل المدتی ترقی اور عوامی بہبود کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ ایڈوائزری تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریوں کے ساتھ ساتھ ڈائرکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل جیلوں اور اصلاحی خدمات کو بھیجی گئی ہے۔