Bharat Express DD Free Dish

Himanta Biswa Sarma

رپورٹ کے مطابق اس انہدامی کاروائی کے خلاف سونا پور کے ان لوگوں کی درخواست دائر کرتے ہوئے وکیل عدیل احمد نے کہا کہ ان کے گھروں کو پہلے کسی قسم کا کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔ ان کے گھروں کو اچانک غیر قانونی تعمیرات قرار دے کر بلڈوزر بھی بھیجے گئے۔

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما نے جمعہ کے روزسوشل میڈیا پرپوسٹ میں کہا تھا کہ دوگھنٹے کے جمعہ بریک ختم کرکے آسام حکومت نے تاریخی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے بعد سے ہی آسام حکومت پرمسلسل سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

آسام کے سی ایم ہمنتا بسوا سرما نے کہا کہ جمعہ کے دو گھنٹے کے وقفے کو ختم کرکے، آسام اسمبلی نے ترقیاتی صلاحیت کو ترجیح دی ہے اور نوآبادیاتی بوجھ کے ایک اور نشان کو ختم کیا ہے۔ یہ رواج مسلم لیگ کے سید سعد اللہ نے 1937 میں شروع کیا تھا۔

اس بارے میں وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا تھا کہ "ہمارا مقصد صرف بچوں کی شادی کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ قاضی نظام کو بھی ختم کرنا ہے۔ ہم مسلم شادی اور طلاق کی رجسٹریشن کو سرکاری نظام کے تحت لانا چاہتے ہیں۔

آسام اسمبلی نے جمعرات کو مسلمانوں کی شادی اور طلاق کے لئے سرکاری رجسٹریشن لازمی کرنے کے لئے بل منظورکردیا ہے۔ اس بل کے منظورہونے سے آسام میں اب مسلمانوں کوشادی اورطلاق کا رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگیا ہے۔

گری راج سنگھ نے X پر لکھا کہ 'بنگلہ دیش کے مسلمانوں کو منصوبہ بند طریقے سے بنگال-جھارکھنڈ میں آباد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش پہلے ہی بن چکے ہیں۔ بھارت کے اندر  اورپاکستان بنگلہ دیش بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔ اسے ہر حال میں روکنا ہوگا۔

مقامی باشندہ  ثقلین کا کہنا تھا کہ 'ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس مجرم کے جنازے میں شریک نہیں ہوں گے.. ہم نے اس کے خاندان کو بھی معاشرے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے .. ہم مجرموں کے ساتھ نہیں رہ سکتے'.

آسام کے ڈھنگ علاقے میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی عصمت دری کے معاملے پر، وزیر اعلی ہمنتا بسوا سرما نے کہا، "میں صرف ایک بات کہنا چاہوں گا، جب خواتین کے خلاف کوئی بھی ظلم ہوتا ہے، تو ہمیں فوری کارروائی کرنی چاہیے۔

وائس چانسلر محبوب الحق نے آڈیٹوریم میں موجود اپنے سٹاف اور طلباء سے کہا کہ میں سیاست سے بالکل دور ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں ایک مذہبی آدمی لگتا ہوں لیکن درحقیقت میں تمام مذہبی سرگرمیوں سے دور رہتا ہوں اور صرف طلبہ کے چہرے دیکھتا ہوں۔

ہمانتا بسوا سرما نے کہا کہ "انتخابات کے دوران ہم نے لو جہاد کے بارے میں بات کی تھی، آنے والے دنوں میں ہم ایک نیا قانون لا رہے ہیں جس میں لو جہاد کیس  میں قصورواروں کو عمر قید کی سزا دی جائے گی۔