Bharat Express DD Free Dish

Gaza

العریان نے کہا کہ، "7 اکتوبر سے پہلے، کسی نے ان فلسطینیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی، جو اسرائیل کے ظلم کا شکار ہیں اور ان کی آزادی سے انکاری ہیں۔"

چینل 12 کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مغویوں کی رہائی جمعرات یا جمعہ کو شروع ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی 50 یرغمالیوں کے بعد مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے جنگ بندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

ہندوستان نے ایک بار پھر غزہ کی پٹی کے ان شہریوں کے لیے اپنی انسانی مدد کی ہے جو اسرائیلی فوج کے حملے میں اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں

اسرائیلی فوج یہ کہہ رہی ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں حماس کو نشانہ بنا رہی ہے لیکن اس کے ان حملوں میں حماس کے جنگجوؤں سے زیادہ فلسطینی شہری مارے جا رہے ہیں۔

الشفاء اسپتال کے اندر موجود ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے الشفاء اسپتال میں موجود تمام افراد کو الرشید اسٹریٹ سے نکالنے کے لیے صرف ایک گھنٹے کا وقت دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کی رہائی کے لیے معاہدہ کیا جا سکتا ہے، تاہم انہوں نے منصوبے کی ممکنہ ناکامی کے خوف سے تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔

ہسپتال کے عملے کا کہنا تھا کہ پہلے سے علاج کروانے والے افراد اسرائیلی بمباری اور ایندھن اور ادویات کی کمی کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔ طبی کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے فلسطینی علاقے کے شمال میں اسپتالوں تک رسائی کو روک دیا ہے۔

ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم نیتن یاہو نے اشارہ دیا کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کی واپسی کی مخالفت کرے گا۔ حالیہ دنوں میں دنیا کے کئی ممالک نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال اور شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد پی ایم نیتن یاہو کی جانب سے ردعمل سامنے آیا۔

اپنے پیغام میں امریکی نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم امریکی یرغمالیوں کو گھر پہنچائیں اور اس خطے میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکیں۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس اور ان کے شوہر ڈگ ایمہوف ہر سال دیوالی مناتے ہیں۔

حالات کس قدر خراب ہو چکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ غزہ میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ جام شہادت نوش کر دنیا بھر کے انسانیت کے خوساختہ علمبرداروں حالات کے آئینہ میں اسرائیل کے ظلم و بربریت کا عکس دکھا رہے ہیں