Bharat Express DD Free Dish

Foreign Policy

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔

انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران ایک یکساں سوچ رکھنے والا ملک نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف نظریات اور طاقت کے مراکز موجود ہیں، جو مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’’انتہائی تجربہ کار اور سخت حریف‘‘ قرار دیا۔

سابق مرکزی وزیرسلمان خورشید نے امریکہ-ایران مذاکرات سے متعلق کہا کہ یہ بات چیت اگرناکام ہوئی تو صورتحال خراب ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پھر سے کوئی جنگ نہ ہو، بلکہ امن برقرار رہے۔ تاہم بدقسمتی سے جو کردارہمیں نبھانا چاہئے تھا کہ ہم امن کے سفیرہیں اور دنیا کو اچھے مشورے دیتے ہیں۔

سید اکبرالدین نے کہا، "آج کا عام بھارتی خارجہ پالیسی سے ایسے نتائج چاہتا ہے جو اس کی زندگی پر براہ راست اثر ڈالیں۔ وہ بہتر روزگار، آسان سفری مواقع اور بیرون ملک سے رقم بھیجنے کے آسان طریقے چاہتے ہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تبدیلی بھارت کے عالمی روابط میں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ ملاقات بھارت اور فرانس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جو مستقبل میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو جلد ہی مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔

وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ وہ مغربی ایشیا کے بیشتر ممالک کے سربراہان سے متعدد بار بات چیت کر چکے ہیں اور ہندوستان مسلسل ایران، اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے نہ صرف کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ ہندوستانی بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو بھی یقینی بنا رہی ہے۔

وزیراعظم نے بدھ کی رات شیخ صباح الخالد الصباح سے بات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی اور حالیہ واقعات پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے کویت پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت بھی کی۔ دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مسلسل بات چیت ضروری ہے۔

سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ اکتوبر 2014 میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے اپنی پرانی روایت کے مطابق ڈاکٹر منموہن سنگھ کی چابہار پہل کو نئے انداز میں پیش کیا اور اسے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن کا حصہ بتایا۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ تعزیتی کتاب کھلنے کے پہلے ہی دن خارجہ سکریٹری نے یہ رسمی کارروائی مکمل کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری حقائق سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔