Bharat Express DD Free Dish

India pays tribute to Khamenei: آیت اللہ خامنہ ای کو بھارت کی جانب سے خراج عقیدت، وزارت خارجہ کا بغیر معلومات کے تبصرہ کرنے سے گریز کا مشورہ

رندھیر جیسوال نے کہا کہ تعزیتی کتاب کھلنے کے پہلے ہی دن خارجہ سکریٹری نے یہ رسمی کارروائی مکمل کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری حقائق سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔

نئی دہلی: بھارت نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر اظہار تعزیت میں بھارت نے پانچ دن کی تاخیر کی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ عوام کو بغیر مکمل معلومات کے اس طرح کے تبصرے کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

تعزیتی کتاب پر پہلے ہی دن دستخط

ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ ہند نے واضح کیا کہ بھارت نے ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کو باقاعدہ خراج عقیدت پیش کیا تھا۔ ترجمان کے مطابق بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے 5 مارچ کو ایرانی سفارت خانہ نئی دہلی جا کر تعزیتی کتاب میں دستخط کیے تھے اور حکومت ہند کی جانب سے اظہارِ تعزیت کیا تھا۔ رندھیر جیسوال نے کہا کہ تعزیتی کتاب کھلنے کے پہلے ہی دن خارجہ سکریٹری نے یہ رسمی کارروائی مکمل کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر تبصرہ کرنے سے پہلے ضروری حقائق سے آگاہی حاصل کرنی چاہیے۔ اس موقع پر وکرم مسری نے بھارت میں ایران کے سفیر محمد فتح علی سے بھی ملاقات کی اور خامنہ ای کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ ایرانی سفارت خانے نے دنیا بھر کے ایرانی شہریوں اور ان کے حامیوں کے نقصان کے پیش نظر نئی دہلی میں عام لوگوں کو بھی تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے کی دعوت دی تھی۔ اس سلسلے میں 5 مارچ، 6 مارچ اور 9 مارچ کو کئی افراد نے سفارت خانے جا کر تعزیت کا اظہار کیا۔

ایران کی جانب سے بھارت کا شکریہ

11 مارچ کو ایرانی سفارت خانے نے تعزیت کے اظہار پر بھارت کا شکریہ ادا کیا۔ تعزیتی کتاب پر سیاست دانوں، اعلیٰ سرکاری افسران، مذہبی رہنماؤں، دانشوروں، ماہرین تعلیم اور میڈیا نمائندوں سمیت مختلف طبقوں کے افراد نے دستخط کیے۔ واضح رہے کہ 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فوجی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ بعد میں امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں ایک فوجی اجلاس کے دوران کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایران کے وزیر دفاع اور اسلامی پاسدارانِ انقلاب کور کے سربراہ بھی شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں خامنہ ای کے قریبی اہل خانہ بھی مارے گئے، جن میں ان کی بہو، بیٹی اور نواسہ شامل تھے، جبکہ زخمی ہونے والی ان کی اہلیہ بعد میں علاج کے دوران انتقال کر گئیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read