Bharat Express DD Free Dish

Foreign Policy

بھارت منڈپم میں برکس ممالک اور شراکت دار ملکوں کے نمائندے جمع ہوئے ہیں جہاں اقتصادی تعاون، عالمی سلامتی اور کثیر جہتی اصلاحات پر تبادلۂ خیال ہورہا ہے۔ اجلاس کا مقصد عالمی معیشت میں برکس کی اجتماعی آواز کو مضبوط بنانا، بینکنگ، سرمایہ کاری، اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانا، اور بین الاقوامی سلامتی و گورننس پر یکساں موقف اختیار کرنا ہے۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کے سامنے اس وقت کئی راستے موجود ہیں۔ ان کے مطابق یا تو ایران وقار، طاقت اور قومی مفادات کے تحفظ کے ساتھ مذاکرات کرے اور ایرانی عوام کے حقوق حاصل کرے، یا پھر ’نہ جنگ نہ امن‘ کی کیفیت برقرار رہے، یا تصادم اور جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی ترجیح ایسی سفارت کاری ہے جو عسکری طاقت اور قومی مفادات کی پشت پناہی سے آگے بڑھے۔

دورے کے دوران نریندر مودی ناروے کے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنما ناروے-انڈیا بزنس اینڈ ریسرچ سمٹ میں بھارتی اور ناروے کے صنعت کاروں اور کاروباری نمائندوں سے بھی خطاب کریں گے۔ اس کے علاوہ ناروے کے بادشاہ بھی وزیر اعظم مودی سے خصوصی ملاقات کریں گے۔

اس دوطرفہ ملاقات میں دفاع، تجارت، معیشت اور علاقائی و عالمی مسائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے بھی ویتنامی صدر سے ملاقات کی اور جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ 

صدر تو لام اپنے دورے کے دوران ممبئی بھی جائیں گے، جہاں وہ نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں بزنس فورم میں شرکت کریں گے اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کریں گے۔

کینیڈین سکیورٹی انٹلی جنس سروس کی رپورٹ 2025 میں بھارت کو غیر ملکی مداخلت کرنے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی دہلی نے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے کینیڈین سیاستدانوں، صحافیوں اور انڈو-کینیڈین کمیونٹی کے افراد کے ساتھ خفیہ روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

سابق امریکی سفیر کے مطابق نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔

چانسلر اسٹوکر اس دورے پر ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ ہیں، جس میں معیشت، توانائی اور سیاحت کے وفاقی وزیر سمیت سینئر عہدیداران اور کاروباری رہنما شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دورے میں اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔  بھارت اور آسٹریا کے تعلقات دوستانہ اور کثیر جہتی نوعیت کے حامل ہیں، جو مشترکہ جمہوری اقدار پر مبنی ہیں۔

یہ دورہ وزیر اعظم مودی کے 2024 کے دورۂ آسٹریا کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں پیدا ہونے والی رفتار کو آگے بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے سے نہ صرف اقتصادی بلکہ اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی نئی جہت ملے گی۔

انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران ایک یکساں سوچ رکھنے والا ملک نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف نظریات اور طاقت کے مراکز موجود ہیں، جو مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’’انتہائی تجربہ کار اور سخت حریف‘‘ قرار دیا۔