Bharat Express DD Free Dish

Flood death

بارشوں اور سیلاب نے مواصلاتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ آسام میں 15 بڑے دریا خطرناک سطح سے اوپر بہہ رہے ہیں، اور سڑک، ریل اور فیری سروسز معطل ہیں۔ شمال مشرقی فرنٹیئر ریلوے نے کئی ٹرینیں منسوخ کر دیں، جبکہ گوہاٹی میں واٹر لاگنگ سے شہری زندگی مفلوج ہو گئی ہے۔

حکام کی جانب سے سیلاب کی وارننگ کے باوجود مناسب امداد نہ ملنے کی وجہ سے لوگوں کو کافی  پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اسپین کے صدر پیڈرو سانچیز نے سوشل میڈیا پر لکھا، "پورا سپین ان لوگوں کے درد کو محسوس کر سکتا ہے جو اس سیلاب میں اپنے اہل خانہ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم تمام ضروری وسائل استعمال کر رہے ہیں،تاکہ اس پر جلد از جلد قابو پایا جا سکے۔

یورپ میں کئی برسوں کے بدترین سیلاب میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے حکام نے معلومات فراہم نہیں کیں، جبکہ ہسپانوی وزیر دفاع مارگریٹا روبلز نے سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

’افریقہ ٹائمز‘ کے مطابق – لیبیا کے مشرقی حصے میں صورتحال قابو سے باہر ہے۔ پیر کی شام مرنے والوں کی تعداد 700 تھی۔ منگل کی رات دیر گئے یہ تعداد 6 ہزار ہو گئی۔ لاپتہ افراد کی تعداد بھی 200 سے بڑھ کر 15 ہزار تک پہنچ گئی۔

یکم اگست سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے کاکس بازار میں 21، چٹاگانگ میں 19، بندربن میں 10 اور رنگا متی میں پانچ افراد ہلاک ہوئےہیں ۔بنگلہ دیش کے محکمہ موسمیات کے سربراہ عزیز الرحمن نے بتایا کہ یہ حالیہ برسوں میں ہونے والی چند شدید ترین بارشیں ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کے قرب کے علاقوں میں کئی دنوں سے جاری شدید بارش کے باعث آنے والے سیلاب میں کم از کم 11 افراد کی موت اور 27 لاپتہ ہیں۔

این ڈی آر آر ایم سی نے مرکزی لوزون جزیرے پر بیکول کے علاقے میں مرنے والوں کی تعداد پانچ، وسطی فلپائن میں دو اور جنوبی فلپائن میں 10 ہوگئی  ہے