Bharat Express DD Free Dish

Enforcement Directorate

ای ڈی کی جانب سے کرکٹر یوراج سنگھ اور رابن اتھپا کو آن لائن بیٹنگ ایپ 1xBet کے پروموشن سے جڑے الزامات کے تحت طلب کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ رابن اتھپا بھارت کی 2007 کی ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا اہم حصہ تھے۔ اُس تاریخی فائنل میں، جس میں بھارت نے پاکستان کو 5 رنز سے شکست دی تھی، اتھپا نے 8 رنز بنائے تھے۔

کرکٹر شیکھر دھون کو ای ڈی نے بیٹنگ ایپ کے پروموشن کیس میں بلایا ہے۔ یہ کیس xBet1نامی آن لائن بیٹنگ پلیٹ فارم سے متعلق ہے۔ الزام ہے کہ دھون نے سوشل میڈیا پر اس ایپ کی تشہیر کی۔ ای ڈی جاننا چاہتا ہے کہ اس پروموشن میں ان کا کیا رول تھا۔ اس لیے انہیں تحقیقات میں شامل ہونے کو کہا گیا ہے۔

سوربھ بھاردواج نے دعویٰ کیا کہ ای ڈی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مَینک اروڑا نے ان کا بیان ان کے لیپ ٹاپ سے گوگل ڈرائیو پر اپلوڈ کیا، اور ممکنہ طور پر یہ بیان بی جے پی کے دفتر یا لیفٹیننٹ گورنر (ایل جی) کو بھیجا گیا۔

عام آدمی پارٹی کے دور حکومت میں دہلی کی اینٹی کرپشن برانچ نے اس وقت کے وزیر سوربھ بھردواج اور ستیندر جین کے خلاف محکمہ صحت سے متعلق پروجیکٹ میں بدعنوانی کا الزام لگاتے ہوئے کیس درج کیا تھا۔ اس کیس کو بعد میں ای ڈی نے اپنے قبضے میں لے کر اس سال جولائی کے مہینے میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا تھا۔

ای ڈی کی ٹیم کو اطلاع ملی کہ کے سی ویرندر اپنے ساتھیوں کے ساتھ گنگٹوک کاروباری دورے پر گئے تھے، جہاں وہ زمین لیز پر لے کر نیا کیسینو کھولنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اسی دوران 23 اگست کو انہیں گرفتار کیا گیا،

خوبصورت انفلواینسر سندیپا ورک کو ای ڈی نے گرفتارکرلیا ہے۔ منی لانڈرنگ معاملے میں سندیپا پرای ڈی نے شکنجہ کسا ہے۔ انسٹا گرام پر سندیپا کے ایک ملین سے زیادہ فالورس ہیں۔ چھاپہ ماری میں کئی اہم دستاویز اور ریکارڈ ملے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ اہم لوگوں، جن میں فاروق علی بھی شامل ہیں۔ ان کے بیان درج کئے گئے ہیں۔

 ہندوستان کے سابق کرکٹرسریش رینا کوبیٹنگ ایپ جانچ معاملے میں بدھ کے روز ای ڈی نے اپنے دفتر بلایا ہے۔ اس سے پہلے ای ڈی کی جانچ ٹیم نے ممبئی، دہلی-این سی آر، حیدرآباد، جے پور، مدیر اور سورت میں 15 ٹھکانوں پر تلاشی مہم چلائی تھی۔

یہی نہیں کچھ ملزمین خود کو مائیکروسافٹ یا ایمازون جیسی بڑی کمپنیوں کی ٹیکنیکل سپورٹ ٹیم کا رکن ظاہر کرکے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ اس گینگ نے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہوئے سائبر فراڈ کو عالمی سطح پر انجام دیا۔

"ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بینکوں نے ڈیفالٹ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کیا کارروائی کی، اگر کی بھی ہے تو۔ کیا انہوں نے کسی تحقیقاتی ایجنسی میں ان کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کے لیے کوئی شکایت درج کرائی؟"

یہ معاملہ نہ صرف ملک کی مالیاتی سالمیت پر سوال کھڑے کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور بینکنگ ضوابط کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش پیدا کرتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس کیس کی پیش رفت پر سب کی نظریں جمی ہوں گی۔