Bharat Express DD Free Dish

Election Campaign

ترنمول کانگریس کے حامی سیانی گھوش کے اس اقدام کو ثقافتی اظہار اور عوام سے جڑنے کا ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگال کی سیاست ہمیشہ سے ثقافت، موسیقی اور ادب کے ساتھ جڑی رہی ہے۔

واضح رہے کہ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے اور دونوں پارٹیاں بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ان ریلیوں میں مرکزی حکومت اور مختلف ریاستوں کے اہم رہنما شرکت کریں گے تاکہ ووٹروں کو اپنی جانب راغب کیا جا سکے۔ بی جے پی کی اس حکمت عملی کو ریاست میں اپنی موجودگی مضبوط کرنے اور اقتدار تک رسائی کے ایک بڑے منصوبے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔

ان تینوں ریاستوں میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ جمعرات کو ہوگی، جس میں آسام کی 126، کیرالا کی 140 اور پڈوچیری کی 30 نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرداخلہ امت شاہ، وزیردفاع راجناتھ سنگھ، جے پی نڈا، کانگریس کے صدر ملکاارجن کھڑگے، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا سمیت کئی سرکردہ رہنماؤں نے انتخابی ریاستوں میں جلسے کر کے اپنے امیدواروں کے حق میں فضا بنانے کی کوشش کی۔

نریندر مودی مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے درمیان اس ہفتے 9 اپریل سے شروع ہونے والے سات انتخابی پروگراموں میں شرکت کر سکتے ہیں۔

آسام کی 126 رکنی اسمبلی کے لیے 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی جبکہ 4 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ بی جے پی اپنی مہم میں یو سی سی، دراندازی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کو مرکزی نکات کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

وزیرداخلہ نے اعتماد ظاہر کیا کہ آسام میں بی جے پی تیسری بار حکومت بنانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال دراندازوں کی نشاندہی میں لگے اور آئندہ پانچ سالوں میں انہیں ملک سے نکالنے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

امت شاہ نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے دراندازوں کو تحفظ دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے قوانین بنائے جن سے غیر قانونی دراندازی کو فروغ ملا۔ امت شاہ نے شہریت ترمیمی قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت محض سیاسی فائدے کے لیے کرتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس نے ماضی میں ایسے اقدامات کیے جن سے آسام میں دراندازی بڑھی۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اگر کیرالہ میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں این ڈی اے حکومتیں قائم ہیں، وہاں ترقی کے وہ کام انجام دیے گئے ہیں جو گزشتہ 50 سے 60 برسوں میں نہیں ہوسکے تھے۔