وزیراعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال کے ضلع بیربھومی میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئےترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اگر ریاست میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے اصول پر کام کیا جائے گا اور جن لوگوں نے بنگال کو لوٹا ہے، ان سے حساب بھی لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بیر بھوم کو تاریخی اور انقلابی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ رابندر ناتھ ٹیگور نے ایک ایسے معاشرے کا خواب دیکھا تھا جہاں لوگ خوف سے آزاد ہوں، لیکن موجودہ حکومت نے اس کے برعکس ماحول پیدا کر دیا ہے۔ مودی نے بیر بھوم کے بوگتوئی واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہے، جہاں معصوم خواتین اور بچوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ انہوں نے اسے ’’مہا جنگل راج‘‘ کی مثال قرار دیا اور کہا کہ ریاست میں جرائم، گینگ وار اور غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریت، پتھر اور کوئلے کی غیر قانونی کان کنی اور لوٹ مار بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے، جس میں ٹی ایم سی کے اعلیٰ رہنماؤں کی سرپرستی شامل ہے۔
دراندازی اور جعلی دستاویزات کا مسئلہ
وزیراعظم نے اپنی تقریر میں دراندازی کے مسئلے کو بھی اٹھایا اور کہا کہ پڑوسی ممالک سے آنے والے دراندازوں کو جعلی سرکاری دستاویزات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنچایت اور سرکاری دفاتر میں دباؤ ڈال کر غیر قانونی کام کروائے جا رہے ہیں، جو نہ صرف بنگال بلکہ پورے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بی جے پی حکومت بنتے ہی دراندازوں اور ان کے مددگاروں کے خلاف خصوصی تحقیقات کی جائیں گی، اور چاہے وہ کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں، قانون کے شکنجے سے نہیں بچ سکیں گے۔ مودی نے خواتین کی سلامتی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں خواتین، خاص طور پر درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی لڑکیوں کے لیے حالات مشکل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت نے حتیٰ کہ دروپدی مرمو جیسے اعلیٰ عہدے کا بھی احترام نہیں کیا، جو کہ قبائلی سماج اور خواتین کی توہین ہے۔ انہوں نے حالیہ جرائم اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتخابات دراصل ریاست کی بیٹیوں کے تحفظ کا بھی سوال ہیں۔
نوجوانوں، تعلیم اور روزگار کے مسائل
وزیراعظم نے کہا کہ بنگال کے نوجوان روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے تعلیمی اداروں کی خراب حالت، اساتذہ کی کمی اور تنخواہوں میں بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں روزگار میلوں کے بجائے ’نوکریوں کی لوٹ‘ جاری ہے اور اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ہزاروں خاندانوں کے خواب چکناچور کر دیے ہیں۔
ترقیاتی منصوبے اور مستقبل کا وژن
مودی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہزاروں کروڑ روپے کے ترقیاتی منصوبے بنگال کے لیے تیار کیے ہیں، لیکن ٹی ایم سی حکومت نے انہیں روک رکھا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ بی جے پی حکومت بننے کے بعد ان منصوبوں پر تیزی سے عمل ہوگا، جس سے صنعتوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے دیہی روزگار، کسانوں کے مسائل اور زرعی شعبے کے لیے مختلف اسکیموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کسانوں اور مزدوروں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ مغربی بنگال میں تبدیلی کا وقت آ چکا ہے اور 23 اور 29 اپریل کو ہونے والے انتخابات میں عوام ٹی ایم سی حکومت کو جواب دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 4 مئی کے بعد ریاست میں ایک نئی حکومت بنے گی جو ترقی، شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا نعرہ ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ بنگال میں ایک نئے عہد کا آغاز کرے گا، جہاں عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ بدعنوان عناصر کا مکمل احتساب بھی کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

