Bharat Express DD Free Dish

Amit Shah holds meeting: وزیرداخلہ امت شاہ کی مغربی بنگال میں مہاجر مزدوروں سے ملاقات، ترنمول کانگریس حکومت پر سخت تنقید

امت شاہ نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت دراندازی جیسے اہم مسئلے پر ناکام رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی ماحول دن بہ دن گرم ہوتا جا رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مغربی بنگال کے علاقے آرادپور میں شمالی بنگال ڈویژن کے مقامی اور مہاجر مزدوروں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ یہ ملاقات آئندہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے پیش نظر کی گئی، جہاں بی جے پی اپنی انتخابی مہم کو تیز کر رہی ہے۔ اس سے قبل امت شاہ نے کالیہ گنج میں ایک بڑا روڈ شو بھی کیا، جس میں پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ ان سرگرمیوں کا مقصد ریاست میں پارٹی کی موجودگی کو مضبوط کرنا اور ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کرنا ہے۔

دراندازی، سرحدی سکیورٹی اور سخت بیانات

اپنے خطاب میں امت شاہ نے ریاست کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت دراندازی جیسے اہم مسئلے پر ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اقتدار میں آئی تو بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے لیے درکار زمین فراہم کی جائے گی تاکہ غیر قانونی دراندازی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے ٹی ایم سی کارکنوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ووٹنگ کے عمل کو متاثر کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے گڑبڑ کرنے کی کوشش کی تو انتخابی نتائج کے بعد سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ممتا بنرجی پر الزام لگایا کہ وہ اکثریتی طبقے کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں برسوں سے لوگ پرامن طور پر رہ رہے ہیں اور کسی کو بھی انہیں ڈرانے کا حق نہیں ہے۔

امن و امان، مذہبی تقریبات اور انتخابی مقابلہ

امت شاہ نے ریاست میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ رام نومی کے دوران تشدد اور سرسوتی پوجا پر پابندی جیسے واقعات حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ ایسے مواقع پر ریاستی حکومت کہاں تھی اور کیوں بروقت اقدامات نہیں کیے گئے۔ انہوں نے زور دیا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کرے گی اور عوام کو بہتر حکمرانی فراہم کرے گی۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو منعقد ہوں گے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ اس بار ریاست میں سخت مقابلہ متوقع ہے، جہاں ایک طرف ٹی ایم سی چوتھی بار اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تو دوسری جانب بی جے پی گزشتہ انتخابات میں بہتر کارکردگی کے بعد حکومت بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، انتخابی ماحول دن بہ دن گرم ہوتا جا رہا ہے اور دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ بھی جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ انتخابی مقابلہ نہایت دلچسپ اور فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read