Bharat Express DD Free Dish

Education Ministry

ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ تمام اسکولوں کو خالی کروا لیا گیا ہے اور والدین کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ صورتِ حال قابو میں ہے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ دھمکی آمیز ای میل کی تحقیقات سائبر کرائم یونٹ کر رہی ہے تاکہ بھیجنے والے کی شناخت کی جا سکے۔

گجرات کے سی ایم او کے مطابق  وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل کی قیادت میں 2022 میں شروع کیے گئے اس پروگرام کا مقصد ریاست میں تقریباً 40,000 سرکاری اور گرانٹ ان ایڈ اسکولوں کو اپ گریڈ کرنا ہے۔

وزیر موصوف نے مزید کہا کہ کوآپریٹو سیکٹر 2047 تک ہندوستان کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے میں دیہی معیشت میں اہم رول ادا کرے گا

آئی ایس سی ریسرچ - ایک تھنک ٹینک جو بین الاقوامی اسکولوں کی مارکیٹ سے متعلق ڈیٹا کو ٹریک کرتا ہے، انہوں نے اطلاع دی ہے کہ ایسے اسکولوں کی تعداد 2019 میں 884 سے بڑھ کر جنوری 2025 میں 972 ہوگئی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ میں داخل کی عرضی میں مرکزی وزارت تعلیم کی مداخلت کا الزام لگایا ہے، جس نے مبینہ طورپروزارت کی طرف سے فراہم کردہ دونامزدگیوں میں سے ایک کے انتخاب کے لئے متاثرکیا۔

مرکزی حکومت نے پیر کو ’نو ڈیٹینشن پالیسی‘کو ختم کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت اب پانچویں اور آٹھویں جماعت کے سالانہ امتحان میں فیل ہونے والے طلباء کو فیل ہی قرار دیا جائے گا۔

دیہی خواتین لیبر فورس کی شرکت کی شرح(ایف ایل ایف پی آر) میں 23 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جو 2017-2018 میں 24.6 فیصد سے بڑھ کر 2023-2024 میں 47.6 فیصد ہو گیا۔

: پہلے مرحلے میں حب انسٹی ٹیوٹ میں ہندوستان میں سب سے اوپر 25 انسٹی ٹیوٹ اور قومی اہمیت کے ٹاپ 50 ادارے شامل ہوں گے۔ مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیاں، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی آئی آئی ٹی) کو ان انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ بطور اسپوک انسٹی ٹیوٹ منسلک کیا جائے گا۔

بڑی بات یہ ہے کہ پروفیسر مظہر آصف کو وائس چانسلر بنائے جانے سے جامعہ ملیہ کے ساتھ ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں بھی خوشی کا ماحول ہے اور یہ عام تاثر ہے کہ پروفیسر مظہر کے آنے سے جامعہ ملیہ کے وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ تعلیمی برادری کھلے دل سے پروفیسر مظہر آصف کا استقبال کررہی ہے اور نیک تمناوں کا اظہار کررہی ہے۔

مادری زبان کی خصوصی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے  دھنکھڑ نے کہا کہ یہ وہ زبان ہے جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں۔  دھنکھڑ نے ہندوستان کے بے مثال لسانی تنوع پر زور دیتے ہوئے کہا، ”دنیا میں ہندوستان جیسا کوئی ملک نہیں ہے۔ جب بات زبان کی دولت کی ہو تو ہم ایک منفرد قوم ہیں، جس میں کئی زبانیں ہیں۔