Bharat Express DD Free Dish

Dr. S. Jaishankar

ایس جے شنکر نے کہا، یہ یقینی طور پر ہماری خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید تقویت اور مادہ فراہم کریں گے۔جے شنکر نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان روس یوکرین تنازعہ کو ختم کرنے کی حالیہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں منعقدہ 20ویں ایسٹ ایشیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف اپنی دفاعی پالیسی سے کسی بھی صورت میں سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت غزہ کے لیے پیش کردہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتا ہے۔

اپنے خطاب میں وزیر خارجہ نے عالمی منظرنامے پر بھی بات کی اور کہا کہ:"دنیا اس وقت تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین اور نظام کمزور ہو رہے ہیں یا بعض صورتوں میں ختم بھی ہو رہے ہیں۔"

ایس جے شنکر نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا: جو ممالک دہشتگردی کو ریاستی پالیسی کے طور پر اپنا چکے ہوں، جہاں دہشت گردی کے مراکز صنعتی پیمانے پر چل رہے ہوں، جہاں دہشت گردوں کو عوامی طور پر ہیرو بنایا جاتا ہو، ایسے اقدامات کی سخت اور واضح مذمت کی جانی چاہیے۔"

جے شنکر نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی قسم کی رواداری یا رعایت نہیں برتی جانی چاہیے۔ یہ اب پوری دنیا کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ بھارت کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس خطرے کا مل کر خاتمہ کیا جائے۔

نکی  ہیلی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا: دنیا کی دو سب سے بڑی جمہوری طاقتوں کے درمیان دہائیوں سے قائم دوستی اور اعتماد، موجودہ اختلافات کے سبب کمزور ہو رہا ہے۔

امریکی پابندیوں اور محصولات کے باوجود، جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی ضروریات کے لیے روس سے تیل خریدتا رہے گا، کیونکہ یہ فیصلے مارکیٹ حالات اور اقتصادی استحکام کے پیش نظر کیے جاتے ہیں۔

وزیر خارجہ ڈاکٹر جے شنکر اور آچاریہ لوکیش مُنی کے درمیان ہونے والی یہ معنویت سے بھرپور ملاقات، بھارت کے امن کے مشن میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے ذریعے بین الاقوامی پیغامِ عدم تشدد اور معاشرتی ہم آہنگی کو ایک نیا عہد ملنے کی امید ہے۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی زیرو ٹالرنس پالیسی کو ایک بار پھر واضح کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’آپریشن سندور‘ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔

لوک سبھا میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سے سوال پوچھتے پوچھتے ملک سے سوال پوچھنے لگے۔ ان کے اس بیان پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ راجناتھ سنگھ جی بہت سینئر لیڈر ہیں اور ہمیں امید تھی کہ کم از کم وہ کچھ مدعوں پر جواب دیں گے، لیکن، ایک بھی مدعے پر بات نہیں ہوئی۔