Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

امریکی صدر نے کہا کہ یہ قدم غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق ان کے خدشات کی وجہ سے اٹھایا گیا ہے۔ ریپبلکن رہنما نے ان دو اہم مسائل کو اپنی انتخابی مہم کی بنیاد بنایا تھا۔

امریکی صدر کے فیصلے سے تجارتی جنگ چھڑنے کا خطرہ ہے، جس کے بارے میں ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ عالمی ترقی کو سست کر سکتا ہے اور افراط زر دوبارہ بڑھ سکتا ہے۔

شین بام نے اکتوبر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اپنی حکومت کے ریکارڈ کا ذکر کیا، جس میں فینٹینائل کی 20 ملین خوراکیں ضبط کرنے کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث 10 ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔

نیتن یاہو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت شروع ہونے والی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی اور یرغمالی معاہدے کی شرائط کے مطابق معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات پہلے مرحلے کے 16ویں دن یعنی اگلے پیر سے شروع ہونے چاہئیں۔

"یہ ٹیرف اس لیے لگایا گیا ہے کہ ہمارے شہریوں کو غیر قانونی امیگریشن اور مہلک منشیات کے خطرے کا سامنا ہے۔ بطور صدر، یہ میرا فرض ہے کہ میں امریکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناؤں۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس خیال کو مسترد کر دیا کہ مصر غزہ کے لوگوں بے گھر ہونے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصری اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔

اگر برکس اپنی کرنسی شروع کرتا ہے تو یہ امریکی ڈالر کے غلبے کو کمزور کر سکتا ہے، امریکہ کی عالمی طاقت کی ایک بڑی وجہ ڈالر کا غلبہ ہے۔ اگر دنیا ڈالر کی بجائے برکس کرنسی کو اپنانا شروع کر دے تو امریکی معیشت کو دھچکا  لگ سکتا ہے۔

برلن میں ٹاؤن ہال کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اولاف شولز نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کو مصر اور اردن منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کرنے کے بعد انہیں بے دخل کرنا ’ناقابل قبول‘ ہوگا۔

شام میں امریکہ کا التنف بیس اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بے حد خاص ہے۔ اگرامریکہ شام سے باہرنکلا تو یہ اسرائیل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی۔ اسد حکومت کے خاتمہ کے بعد اسرائیل سے متصل شام سرحد سے اسرائیلی فوج کئی کلو میٹراندرتک آگئی ہے اوران کے قبضے کے خلاف شام میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب ٹرمپ کی تجویز کے حوالے سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’غزہ کی آبادی کی کسی بھی طرح جبری بے دخلی ناقابل قبول ہوگی۔یہ نہ صرف عالمی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہوگی بلکہ دو ریاستی حل میں بھی ایک بڑی رکاوٹ ہوگی۔