Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump

ٹرمپ نے کہا کہ وہ اور شی جن پِنگ تقریباً ہر چیز پر متفق ہو گئے ہیں، جن میں سویا بین کی تجارت اور فینٹینائل سے متعلق ٹیرف بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کے ہم کئی مسائل پر متفق ہیں۔ بڑی مقدار میں سویا بین اور دیگر زرعی مصنوعات کی خریداری فوری طور پر شروع ہونے جا رہی ہے۔

چینی صدر نے مزید کہا کہ "چین اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کی کامیابی اور خوشحالی میں مدد دے سکتے ہیں۔ میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ دونوں ممالک کو شراکت دار اور دوست ہونا چاہیے۔

آج دنیا کی 70 فیصد Rare Earth Minerals کی کان کنی چین میں کی جاتی ہے اور 90 فیصد کو وہاں پروسیس کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی ان معدنیات کے لیے چین پر انحصار کرتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان کے تنازع کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکنے کے لیے ذاتی طور پر مداخلت کی تھی۔

ستمبر 2000 میں روس اور امریکہ نے ایک خصوصی معاہدے پر دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک نے 34 ٹن ہتھیار استعمال کرنے والے پلوٹونیم کو تباہ کرنا تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اکتوبر 2016 میں ماسکو نے یہ معاہدہ منسوخ کر دیا۔

بہار میں انتخابات جاری ہیں۔ اس دوران واشنگٹن پوسٹ نے بھارتی لائف انشورنس کارپوریشن (LIC) پر اڈانی گروپ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے متعدد الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ LIC نے 120 فیصد منافع درج کیا ہے۔ ایسے میں واشنگٹن پوسٹ کی صحافت پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔

کینیڈا امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے یہ ٹیرف میں اضافہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

ٹرمپ کا سب سے اہم پڑاؤ اس ماہ کے آخر میں ہوگا، جب وہ جنوبی کوریا کے شہر گیونگجو میں ہونے والی APEC سربراہی کانفرنس میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔

آڈیو کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈا نے ایک اشتہار جاری کیا، جس میں ٹرمپ کے ٹیرف پالیسی کی مخالفت کی گئی۔ کینیڈا نے کہا کہ 25 تا 35 فیصد ٹیرف لگانا معاشی خودکشی کے مترادف ہے جو دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سان فرانسسکو میں وفاقی فوج تعینات کرنے کا منصوبہ فی الحال روک دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے سان فرانسسکو میں ”جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے ایک بڑا آپریشن“ تیار کیا تھا، تاہم مقامی رہنماؤں کی ”دوستانہ مشاورت“ کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا ہے۔