کسی بھی ملک میں اپنے لیڈرکے لیے مضبوط اور غیر متزلزل حمایت کا رجحان پایا جاتا ہے۔ امریکہ میں بھی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے نتیجے میں مہنگائی اور روزمرہ زندگی کے اخراجات بڑھنے کی شکایات عام ہو چکی ہیں، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس کے باوجود ان کے حامیوں کا جوش اور اعتماد برقرار ہے۔ بڑھتی قیمتوں کے باوجود ٹرمپ کے حمایتی یہ مانتے ہیں کہ موجودہ مشکلات عارضی ہیں اور مستقبل میں حالات بہتر ہوں گے۔
ٹیرِف اور معاشی پالیسیوں پر حامیوں کا مؤقف
ٹرمپ کے حامیوں سے بات کی جائے تو اکثر یہی جواب سامنے آتا ہے کہ صدر کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیرِف اور ضابطہ کاری میں نرمی کا ایجنڈا فی الحال مسائل پیدا کر رہا ہے، لیکن طویل مدت میں اخراجات میں کمی آئے گی۔ ڈینور کے قریب رہنے والے ایک حامی نے بتایا کہ انہیں حال ہی میں پیٹرول ایک اعشاریہ چوہتر ڈالر فی گیلن ملا، اسی بنیاد پر وہ زندگی کے اخراجات کو قابو میں رکھنے کے معاملے میں ٹرمپ کو دس میں سے آٹھ نمبر دیتے ہیں۔
انتخابی ماحول اور بڑھتی تشویش
اگلے سال ہونے والے کانگریس کے مڈ ٹرم انتخابات کے پیش نظر مہنگائی ایک بڑا سیاسی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کو اندیشہ ہے کہ اگر قیمتیں اسی طرح بلند رہیں تو اقتدار برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ٹرمپ کبھی مہنگائی کو فرضی قرار دیتے ہیں، کبھی اس کے لیے سابق صدر جو بائیڈن کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور کبھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پالیسیاں آگے چل کر فائدہ پہنچائیں گی۔
سروے اور عوامی رائے
رائٹرز کے ایک سروے کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں نے زندگی گزارنے کے اخراجات سے نمٹنے کے ان کے طریقے کو زیادہ تر مثبت درجہ دیا ہے۔ دسمبر میں کیے گئے ایک پول میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے تقریباً تین چوتھائی افراد نے ان کی پالیسیوں کی حمایت کی، جب کہ مجموعی جواب دہندگان میں یہ شرح صرف تیس فیصد رہی۔
بحث کا سلسلہ جاری
اگرچہ بے روزگاری اور بلند قیمتیں اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں، لیکن ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان کی پالیسیاں طویل مدت میں اثر دکھائیں گی۔ امریکہ میں اس وقت یہی بحث جاری ہے کہ آیا سیاسی حمایت معاشی حقائق پر غالب آ رہی ہے یا پھر مستقبل میں یہ اعتماد درست ثابت ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


