Bharat Express DD Free Dish

Devendra Fadnavis

دیویندرفڑنویس نے اپنے سیاسی کیریئر میں تمام اتارچڑھاؤدیکھے ہیں۔ 22 جولائی 1970 کو ناگپورشہرکے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے دیویندرفڑنویس اپنی قائدانہ صلاحیتوں اورواضح اندازکے لئے جانا جاتا ہے۔

ایکناتھ شندے نے بدھ کے روز مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت کے ڈھائی سال مکمل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس سے پہلے کہ فڑنویس نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔ شندے نے کہا، ’’ہماری سرکار- مہایوتی سرکار، ہم تینوں اور ہماری ٹیم نے پچھلے ڈھائی سالوں میں جو کام کیا ہے وہ قابل ذکر ہے۔ یہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے اتنے بڑے فیصلے لیے۔

مہاراشٹرکے کارگاروزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے دیویندرفڑنویس حکومت میں نائب وزیراعلیٰ کے لئے حامی نہیں بھری ہے۔ اس سے پہلے خبرآئی تھی کہ شندے نائب وزیراعلیٰ ہوں گے اوروہ آزاد میدان میں ہونے والی تقریب میں حلف لیں گے۔

مہاراشٹر کے گورنر سی پی رادھا کرشنن نے بی جے پی کے سینئر لیڈر دیویندر فڑنویس کو نئی حکومت بنانے کی دعوت دی ہے۔ وہ جمعرات (5 دسمبر) کو ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔

ایکناتھ شندے مہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ عہدے کا حلف لیں گے۔ گورنر سے مل کرحکومت بنانے کے دعوے کے بعد انہوں نے دیویندرفڑنویس کے ساتھ 45 منٹ میٹنگ کی، جس کے بعد یہ فیصلہ لیا۔

مہاراشٹر کے نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری 5 دسمبر کو آزاد میدان میں ہوگی۔ دیویندر فڑنویس سی ایم کی رہائش گاہ ورشا پہنچے، جہاں انہوں نے شنڈے اور پوار سے بات کی۔

مہاراشٹر میں وزیراعلیٰ کا نام طے ہونے کے بعد مہایتی کی میٹنگ ہوئی۔ یہ میٹنگ کارگزار وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی رہائش گاہ پرہوئی۔ اس میں این سی پی لیڈر اجیت پوار اور دیویندر فڑنویس موجود رہے۔ میٹنگ کے بعد تینوں لیڈران نے گورنر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔

کل آزاد میدان میں فڑنویس کی حلف برداری ہوگی ،البتہ اس حلف برداری تقریب میں صرف تین لوگوں کو حلف دلایا جائے گا، ایک فڑنویس وزیراعلیٰ کیلئے ہوں گے جبکہ دوسرے ایکناتھ شندے اور تیسرے شرد پوار ہوں گے ،ان دونوں کو نائب وزیراعلیٰ کیلئے حلف دلایا جائے گا۔

کل (5 دسمبر) مہاراشٹر میں، ایکناتھ شندے دیویندر فڑنویس کی قیادت والی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیں گے۔ کل صرف تین اہم رہنما حلف اٹھائیں گے۔

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آ چکے ہیں لیکن تخت پر کون بیٹھے گا اس پر ابھی تک سسپنس برقرار ہے۔ اس معاملے پر سیاسی حلقوں میں مختلف باتیں سرخیوں میں ہیں۔