Bharat Express DD Free Dish

Delhi Waqf Board Case

دہلی وقف بورڈ سے جڑے منی لانڈرنگ معاملے میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو راؤز ایونیو کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی جانب سے جاری سمن کے باوجود پیش نہ ہونے کے الزام سے متعلق کیس میں خصوصی عدالت نے امانت اللہ خان کو بری کر دیا ہے۔

دہلی وقف بورڈ بھرتی گھوٹالہ میں عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان اور10 دیگرملزمان کے خلاف سی بی آئی کیس میں الزامات طے کئے گئے ہیں۔ عدالت نے امانت اللہ خان پرمجرمانہ سازش اورانسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت فرد جرم عائد کی ہے۔ ان پر وقف بورڈ کے چیئرمین رہتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیرقانونی تقرریاں کرنے کا الزام ہے۔

 اس کیس میں مریم صدیقی نامی خاتون کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔ مریم کو تاحال گرفتار نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ دہلی وقف بورڈ میں مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق ہے۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ امانت اللہ خان نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور وقف بورڈ کی زمین کم قیمت پر خریدی۔

اس سال اپریل میں، ای ڈی نے ایجنسی کے سامنے ان کی عدم پیشی کا حوالہ دیتے ہوئے امانت اللہ خان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ کے لیے عدالت سے رجوع کیاتھا۔ایجنسی نے جنوری میں ان کے مبینہ ساتھیوں داؤد ناصر، ذیشان حیدر، جاوید امام صدیقی اور کوثر امام صدیقی کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی۔

ای ڈی کے مطابق یہ معاملہ دہلی وقف بورڈ کی جائیدادوں کو غیر قانونی لیز پر دینے اور ملازمین کی غیر قانونی بھرتی کے ذریعے ذاتی فائدے سے متعلق ہے۔

دہلی کے اوکھلا سے عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کی عدالتی حراست بڑھا دی گئی ہے۔ انہیں آج راؤزایوینیوکورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ان کی عدالتی حراست کو7 اکتوبرتک کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت 25 ستمبرکی تاریخ طے کی ہے۔

وقف بورڈ مبینہ طور پر ریلوے اور محکمہ دفاع کے بعد ہندوستان میں تیسرا سب سے بڑا اراضی رکھنے والا ہے۔ وقف بورڈ پورے ہندوستان میں 9.4 لاکھ ایکڑ پر پھیلی 8.7 لاکھ جائیدادوں کو کنٹرول کرتا ہے، جس کی قیمت 1.2 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں دو شیعہ وقف بورڈ سمیت 32 وقف بورڈ ہیں۔ ریاستی وقف بورڈ کا کنٹرول تقریباً 200 افراد کے ہاتھ میں ہے۔

دہلی کے اوکھلا سے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ وہ روزانہ ای ڈی دفتر میں پیش ہونے کے لئے تیار ہیں۔ انہیں کسی بھی شرط پر رہا کردیا جائے۔

شہری امور کی وزارت کے عہدیداروں نے پینل کو اس وقت کی برطانوی حکومت کی طرف سے 1911 میں دہلی شہر کی تعمیرکے لیے زمین کے حصول کے عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔ پارلیمانی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران جب شہری امور کی وزارت کے حکام برطانوی انتظامیہ کی جانب سے زمین کے حصول کے عمل سے متعلق ارکان کے سوالات کا جواب دینے سے قاصر تھے۔

امانت اللہ نے ای ڈی کے بار بار وہی سوالات پوچھنے پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 18 اپریل کو ای ڈی کے سامنے پیش ہوا، مجھ سے 13 گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ اب پھر مجھ سے وہی سوالات پوچھے جا رہے ہیں۔