Bharat Express DD Free Dish

Delhi News

دوپہر بارہ بجے تک کی گنتی کے مطابق یہاں مصطفیٰ آباد کی سیٹ پر  دس راونڈ کی کاونٹنگ کے بعد قریب 63ہزار ووٹ کے ساتھ جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں ،وہیں دوسرے نمبر پر عام آدمی پارٹی  کے عادل احمد خان 38ہزار سے زیادہ ووٹوں سے پیچھے ہوتے ہوئے دونمبر پر ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ اب تک کے رجحانوں میں عام آدمی اور کانگریس کے سینئر لیڈران کافی پیچھے چل رہے ہیں ۔ دہلی کے سابق سی ایم اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر  اروند  کجریوال صبح سے مسلسل پیچھے چل رہے ہیں۔

بیلٹ پیپر کی گنتی کے بعد ای وی ایم کھل چکا ہے اور کئی راونڈ کی جگہ پر گنتی بھی پوری ہوچکی ہے۔ البتہ کل 70 سیٹوں کے ابتدائی رجحانات میں بی جے پی کو اپنے دم پر اکثریت ملتی نظرآرہی ہے۔ بی جے پی فی الحال 50 سیٹوں پر آگے نظرآرہی ہے۔

واضح رہے کہ آٹھ بجے سب سے پہلے بیلٹ پیپر کی گنتی شروع کی گئی ہے،ابھی ای وی ایم نہیں کھولا گیا ہے۔ بیلٹ پیپر کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ہی ای وی ایم میں قید ووٹوں کی گنتی شروع کی جائے گی۔

آپ کو بتا دیں کہ اس بار اوکھلا اسمبلی سیٹ کے لیے ووٹنگ 5 فروری 2025 کو ہوئی تھی۔ 54.9 فیصدلوگوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔مسلم ووٹروں کی اکثریت والی اوکھلا سیٹ 2015 سے عآپ کا گڑھ رہی ہے۔ لیکن اس سے قبل اس سیٹ پر کانگریس کا دبدبہ تھا۔

ای وی ایم مشینوں کو اسٹرانگ روم سے گنتی مرکز تک پہنچایا جاتا ہے اور پھر گنتی امیدواروں یا ان کے کاؤنٹنگ ایجنٹس کے سامنے ہوتی ہے۔ ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد امیدواروں کے درمیان اتفاق رائے ہونے کے بعد انتخابی نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات 2020 میں، عام آدمی پارٹی نے 62 اسمبلی سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ بی جے پی کو آٹھ اسمبلی سیٹوں پر قناعت کرنا پڑی۔ اس الیکشن میں کانگریس پارٹی کا کھاتہ بھی نہیں کھل سکا۔

ووٹوں کی گنتی سے قبل بی جے پی لیڈر وی ڈی شرما نے کہا  کہ دہلی الیکشن کے نتائج آنے والے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں دہلی میں 26 سال بعد تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔ ہم بھاری اکثریت سے جیتیں گے…

آج یہ فیصلہ ہوگا کہ آیا عام آدمی پارٹی (اے اے پی) چوتھی بار اقتدار میں آئے گی یا بی جے پی 27 سال بعد قومی دارالحکومت میں حکومت بنائے گی۔ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہ جیتنے کے بعد کانگریس اس بار بھی اپنی کھوئی ہوئی زمین دوبارہ حاصل کرنے کی امید کر رہی ہے۔

سیاسی شعور رکھنے والے افراد کا کہنا ہے  یہ ایگزٹ پولز  ہیں، نتائج اس کے بر عکس بھی آسکتے ہیں ۔اس پورے معاملہ پر کانگریس پارٹی کے قد آور لیڈراورکانگریسی امیدوار سندیپ دکشت نے کہا کہ یہ ایگزٹ پولزغلط ثابت ہوسکتے ہیں ۔