Bharat Express DD Free Dish

Congress

بہار اسمبلی انتخابات کے موسم میں اس وقت بیہ پور اسمبلی سیٹ سیاسی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ اس سیٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پچھلے 70 برسوں سے یہاں کوئی بھی پارٹی لگاتار تین بار جیت حاصل نہیں کر سکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیہ پور کو ریاست کی سب سے خطرناک اور غیر یقینی سیٹ مانا جاتا ہے۔

ذات پات کے لحاظ سے اس سیٹ پر مسلم اور یادو ووٹر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ راجپوت، کوری، اور رویداس ووٹر بھی خاصی تعداد میں موجود ہیں۔ اس اسمبلی انتخابات میں کل 14 امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ بی جے پی نے رام نارائن منڈل کو میدان میں اتارا ہے۔ جن سوراج پارٹی نے کوشل کمار سنگھ کو اور سی پی آئی نے سنجے سنگھ کو میدان میں اتارا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ اس بار بہار میں نتیش کمار کی قیادت میں این ڈی اے اپنے تمام پرانے ریکارڈ توڑنے والا ہے اور تاریخ کا سب سے بڑا عوامی مینڈیٹ حاصل کرے گا۔

وزیرِاعظم نریندر مودی نے ’خاندانی سیاست‘ کو لے کر کہا کہ ”آر جے ڈی اور کانگریس صرف اپنی نسلوں کی سیاست بچانے میں لگی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار کے نوجوانوں سے جھوٹے وعدے کیے جا رہے ہیں۔ جہاں آر جے ڈی ہوتی ہے، وہاں قانون و نظم کا نام و نشان نہیں ہوتا۔ ان کے دور میں لوٹ، اغوا، تاوان اور قتل ایک صنعت بن گئے تھے“۔

امرپور کے بنہارا گاؤں کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مغل بادشاہ شاہجہان کے زمانے میں بنگال اور بہار کے گورنر شاہ شجاع نے یہاں اپنا صدر مقام قائم کیا تھا۔ وہیں، ڈومراما گاؤں میں ملے استوپوں کے آثار اس علاقے میں قدیم بدھ مٹھوں کی موجودگی کے ثبوت ہیں۔

بھاگلپور اسمبلی کا سیاسی سفر بتاتا ہے کہ 1951 سے اب تک ہونے والے 18 انتخابات میں کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا ہی دبدبہ رہا ہے۔ کانگریس نے 8 بار اور بی جے پی نے 6 بار کامیابی حاصل کی ہے۔ جن سنگھ نے تین بار اور جنتا پارٹی نے ایک بار یہ سیٹ جیتی۔

اپنی ویڈیو پوسٹ میں، انہوں نے لکھا، "میں نے پرانی دہلی کی مشہور اور تاریخی گھنٹے والی مٹھائی کی دکان پر امرتی اور چنے کے آٹے کے لڈو بنانے میں اپنا ہاتھ آزمایا۔

دیپانکر بھٹاچاریہ نے یہ بھی کہا کہ جہاں سیٹوں کی تقسیم کے عمل میں وقت لگا ہے، انتخابات کے وقت آل انڈیا الائنس کا اتحاد اور بھی مضبوط ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جب تک کاغذات نامزدگی واپس لینے کا عمل مکمل ہو جائے گا

اطلاعات کے مطابق، کانگریس ہائی کمان نے بہار کانگریس کو پوری چھوٹ دے دی ہے۔ آر جے ڈی کے رویے سے ناراض کانگریس کے لیڈران نے راہل گاندھی کو پوری صورتحال سے آگاہ کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس ہائی کمان نے براہِ راست مداخلت کیے بغیر بہار کانگریس کے لیڈران کو پوری چھوٹ دے دی ہےتاکہ وہ اپنی حکمت عملی خود طے کریں۔

بہاراسمبلی الیکشن کے پہلے مرحلے کی نامزدگی کے بعد کانگریس میں ٹکٹوں کی تقسیم سے متعلق زبردست نااتفاقی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ عظیم اتحاد میں سیٹوں کی تقسیم میں تاخیر اور ذات پات پرمبنی ٹکٹوں کی تقسیم سے پارٹی کے اندراختلاف میں اضافہ ہوگیا ہے۔ کئی کارکنان اورسابق رکن اسمبلی راجیش رام کے خلاف ناراضگی ظاہر کررہے ہیں۔