Bharat Express DD Free Dish

Congress party

مرکزی وزیر مملکت کا الزام، بار بار مارچ اور ریلیوں سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا؛ کہا، ’کتنا بھی احتجاج کرلیں، گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے‘

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف انڈیا اتحاد کا مارچ، راہل گاندھی سمیت کئی لیڈر سپریم کورٹ پہنچے

لکھنؤ میں کانگریس کے دفتر میں اس وقت ہنگامہ برپا ہوگیا جب پارٹی لیڈروں اور کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد دونوں گروپ آمنے سامنے آگئے۔

عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب سے گیانیش کمار کے خلاف احتجاج میں شامل نہ ہونے پر عمران مسعود نے کہا کہ جو راہل گاندھی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں، وہی اس لڑائی میں نظر آئیں گے۔ باقی یا تو طوفان میں بہہ جائیں گے یا دوسری طرف رہ کر بہہ جائیں گے۔

سپریم کورٹ میں راہل گاندھی کی عرضی پر 21 ستمبر کو سماعت، عدالت نے پہلے الہ آباد ہائی کورٹ کی کارروائی پر روک لگاتے ہوئے سی بی آئی اور ای ڈی کو رپورٹ پیش کرنے سے روک دیا تھا

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا مطالبہ، ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم کے تحت ملک بھر میں ’نوکری مارچ‘ اور ’ڈگری مارچ‘ کا اعلان

ذرائع کے مطابق، اب جنرل سکریٹری اور انچارج کے ساتھ مقرر کیے گئے سکریٹریوں کو متعلقہ ریاستوں میں ہر ماہ کم از کم 15 سے 20 دن گزارنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کا مقصد صرف ریاستوں کا دورہ کرنا نہیں بلکہ تنظیمی سرگرمیوں کی باقاعدہ نگرانی کرنا اور مرکزی قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کا جائزہ لینا ہے۔ سکریٹریوں کو ریاستوں میں واضح ذمہ داریاں بھی دی جائیں گی۔

اتر پردیش کانگریس میں ریاستی صدر کے عہدے کو لے کر کھینچا تانی تیز ہوگئی ہے۔ پارٹی کے ریاستی انچارج راجندر پال گوتم نے ہائی کمان کے سامنے 3 متبادل رکھے ہیں، جن میں آرادھنا تیواری کا نام سب سے مضبوط دعویدار کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔

کانگریس پارٹی میں نئی اور نوجوان قیادت کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی خود نئے قومی سکریٹریوں کے انتخاب کے عمل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ قومی سکریٹری کے عہدے کے لیے تقریباً 120 لیڈروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا ہے اور ان لیڈروں کے انٹرویو راہل گاندھی کی موجودگی میں کیے جا رہے ہیں۔

مسلسل انتخابی شکستوں کے درمیان کیا سی جے پی کی طلبہ تحریک کانگریس کے لیے نئی زندگی ثابت ہوگی؟ نیٹ پیپر لیک کے بہانے اپوزیشن 2027 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات اور 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے پیشِ نظر مرکزی حکومت کو حکمتِ عملی کے تحت گھیرنے میں مصروف ہے۔ جانیے اس تحریک کا مکمل سیاسی حساب کتاب۔