Bharat Express DD Free Dish

CM Nitish Kumar

بہار میں ان دنوں سیاسی ہلچل ہے۔ تمام پارٹیاں مسلسل میٹنگیں کر رہی ہیں۔ دوسری طرف آر جے ڈی نیتیش کو منانے میں مصروف ہے۔ وہ بہار میں کسی بھی طرح سے اقتدار میں رہنا چاہتی ہے۔

بہار میں بڑی سیاسی ہلچل کے امکانات ہیں۔ وہیں لالو یادو کی پارٹی آر جے ڈی اور نتیش کمار کی قیادت والی جے ڈی یو کے اتحاد کے درمیان تلخی بڑھ گئی ہے۔ ادھر بی جے پی نے بہار سے اپنے لیڈروں کو دہلی بلایا ہے۔

راہل گاندھی کی بھارت جوڑو نیائے یاترا اس وقت آسام میں ہے۔ اس یاتر میں شامل ہونے کے لئے الائنس کے اتحادیوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

لوک سبھا الیکشن میں کچھ ہی ماہ باقی ہیں اورانڈیا الائنس میں اب تک سیٹوں کی تقسیم نہیں ہو پائی ہے۔ سیٹ شیئرنگ پربات چیت چل رہی ہے، لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ایسے میں اب انڈیا الائنس کو جھٹکا لگنے لگا ہے۔

بہار کی سیاسی حالات سے متعلق رسہ کشی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نتیش کمار کے بی جے پی اورآرجے ڈی دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ اسی درمیان وہ گورنر سے ملنے پہنچے۔ ان کے وزیر وجے چودھری بھی تھے۔

قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ جے ڈی یو، جس نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حلیف کے طور پر 16 سیٹیں جیتی تھیں، اس بار کم تعداد پر راضی نہیں ہوں گی،

پرشانت کشور نے کہا کہ جب تک نتیش کمار بہار میں ہیں، بحث، افواہیں اور کچھ نیا ہونے کا امکان ہمیشہ جاری رہے گا۔ کیونکہ وہ آدمی خود نہیں جانتا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ پرشانت کشور نے کہا، "بہار کے نقطہ نظر سے، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نتیش کمار کی پلٹورام کی سیاست کا خاتمہ تقریباً ہو چکا ہے۔

اگرچہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد 'انڈیا' میں شامل کئی پارٹیاں ابھی تک سیٹوں کی تقسیم نہ ہونے پر ناراضگی ظاہر کر رہی ہیں، لیکن آر جے ڈی کے صدر لالو پرساد یادو اس کی وضاحت کرنے میں جلدی کر رہے ہیں۔

آر جے ڈی لیڈر نے کہا کہ انڈیا اتحاد میں شامل تمام پارٹیاں مل کر انتخاب لڑیں گی۔ اور ایک جھنڈے تلے لڑیں گے۔ لالو پرساد یادو اور نتیش کمار کے درمیان 16 دنوں سے کوئی بات یا ملاقات نہیں ہوئی؟

سیاسی حلقوں میں یہ بھی بحث ہے کہ نتیش مکر سنکرانتی کے بعد کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ 10 منٹ کے اندر سی ایم نتیش نے رابڑی کی رہائش گاہ پر لالو سے بھی ملاقات کی۔ دہی چوڑے کی دعوت پر سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی بحث جاری ہیں۔ آپ کو بتادیں  کہ سیٹوں کی تقسیم کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے۔