Bharat Express DD Free Dish

CM Hemant Soren

ڈاکٹر عرفان انصاری نے یہ بھی کہا کہ جب عوام نے ایک ڈاکٹر کو وزیر صحت منتخب کیا ہے تو وہ اس ذمہ داری کو پوری لگن سے نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک جھارکھنڈ میں صحت کی سہولیات بہتر نہیں ہوتی، جب تک یہاں کے لوگ صحت مند نہیں ہوتے، میں سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔

ایگزٹ پول کے بعد جھارکھنڈ میں این ڈی اے میں شامل پارٹیوں اور مہاراشٹر میں مہایوتی میں شامل پارٹیوں میں خوشی کا ماحول ہے۔ اس کے ساتھ ہی جھارکھنڈ میں انڈیا اتحاد اور مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی 23 نومبر کا انتظار کر رہے ہیں جب الیکشن کمیشن نتائج کا اعلان کرے گا۔

آج باضابطہ طور پر حقیقی ووٹنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ شام پانچ بجے تک جھارکھنڈ میں 67.59 فیصد ووٹنگ ہوئی ہے۔ حالانکہ یہ حتمی فیصدی نہیں ہے چونکہ پانچ بجے کے بعد بھی ووٹنگ ہوئی ہے اس لئے حتمی ووٹنگ 70 فیصد کے قریب ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح 7 بجے 14,218 پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹنگ شروع ہوگی اور شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔  کل 1.23 کروڑ ووٹر بشمول 60.79 لاکھ خواتین بدھ یعنی آج کو ووٹ ڈالیں گی۔

ذرائع کے مطابق محکمہ انکم ٹیکس نے سنیل سریواستو، ان کے خاندان کے افراد اور ان سے جڑے کل 16-17 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

یو سی سی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر داخلہ  امت شاہ نے کہا کہ قبائلیوں کا کوئی حق نہیں چھینا جائے گا، اتراکھنڈ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا ماڈل ملک کے سامنے رکھا گیا ہے۔

ہمانتا بسوا سرما نے کہا، کلپنا سورین کہتی ہیں کہ ہیمنت سورین سے بہتر دنیا میں کوئی نہیں ہے اور ہیمنت سورین کہتے ہیں کہ کلپنا سورین جیسی اچھی کوئی خاتون نہیں ہے۔

درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریاست کی تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ کی ایڈہاک تقرری گھنٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ ایسی تقرری نہیں کی جانی چاہیے۔

بابولال مرانڈی نے لکھا کہ جھارکھنڈ کا محکمہ صحت پوری طرح سے بدعنوانی میں ملوث ہے اور پیسے لے کر اور ڈاکٹروں کو من پسند پوسٹنگ دے کر صحت کی خدمات کو متاثر کر رہا ہے۔ دور دراز کے ہیلتھ سینٹر میں ڈاکٹروں کی تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے مریض علاج کی سہولت سے محروم ہیں۔

وکلاء کی مختلف تنظیموں نے اس فیصلے کو سراہا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کے اس فیصلے سے انہیں کافی راحت ملے گی۔ وکلاء کا نام بھی قانون کے رکھوالوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایسے میں جھارکھنڈ حکومت کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔