Bharat Express DD Free Dish

CM Hemant Soren

جھارکھنڈ کے الگ ریاست بننے کے بعد پہلی بار محکمہ ایکسائز میں کانسٹیبل کی تقرری کے لیے امتحان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے متحدہ بہار میں سال 1980 میں اس محکمہ میں کانسٹیبل کی تقرری ہوئی تھی۔ جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کے ذریعہ کرائے جانے والے امتحان کے ذریعہ کل 583 آسامیوں پر تقرر کیا جانا ہے۔

چمپائی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت میں صرف بی جے پی ہی ان مسائل سے نمٹنے میں سنجیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں  نے جھارکھنڈ کی مقامی برادریوں کے مفادات کی حفاظت کے لیے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

دہلی سے رانچی پہنچنے کے بعد سابق وزیراعلیٰ چمپئی سورین نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ آج وہ استعفیٰ دیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے ہزاری باغ، چترا، کوڈرما، بوکارو، دھنباد اور گرڈیہ کی 13 لاکھ 81 ہزار سے زیادہ خواتین کے کھاتوں میں فی ایک ہزار روپے کی رقم منتقل کی۔

دہلی سے فلائٹ میں سوار ہونے سے پہلے جب ایئرپورٹ پر صحافیوں نے ان سے بی جے پی میں شامل ہونے کے بارے میں پوچھا تو چمپائی نے کہا کہ میں دہلی میں بی جے پی کے کسی لیڈر سے نہیں ملا اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میری بی جے پی میں شمولیت کے بارے میں کون بات کر رہا ہے؟

جھارکھنڈ میں اسمبلی الیکشن سے پہلے بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ اور جے ایم ایم کے سینئر لیڈر چمپئی سورین نے اپنی پارٹی سے بغاوت کردی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ بھی کیا ہے۔

بابولال مرانڈی نے کہا کہ ہیمنت سورین کے پاس سب سے زیادہ پیسہ ہے۔ انہو ں نے کوئلہ، ریت، لوہا، زمین، ٹرانسفر پوسٹنگ سے پیسہ کمایا۔ ہیمنت تو  اپنے لوگوں پر الزام لگا رہے ہیں کہ ان کے لیڈربکاؤ ہیں۔

چمپائی سورین نے کہا کہ جس طرح مجھ سے سوالات پوچھے جا رہے ہیں اس میں ہم کیا کہیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہم ذاتی کام سے آئے ہیں۔ ہم کسی سے نہیں مل رہے ہیں۔ جب کوئی پروگرام بنے گا تب ہی ملیں گے۔ ابھی کولکاتہ سے آیا ہوں۔

سنجے راوت نے اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’آپ نے دیکھا ہوگا کہ جھارکھنڈ میں کیا ہو رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔

چمپائی  سورین نے صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں کہا تھا کہ ہم جہاں ہیں وہیں پر ہیں۔ بعد میں سب کو بتائیں  گے۔ ہم نہیں جانتے کہ کیا خبریں پھیل رہی ہیں۔