Bharat Express DD Free Dish

climate action

’ماحولیات اور آب و ہوا کی حرکیات کا مستقبل‘ کے موضوع پر دو روزہ کانفرنس، 17 ممالک کے جج اور عدالتی نمائندے سمیت ماہرین و اعلیٰ حکام ہوں گے شریک

گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

راجستھان کے الور سے رکن پارلیمنٹ بھوپیندر یادو 30 جون 1969 کو اجمیر میں پیدا ہوئے۔ وہ اس وقت مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر ہیں۔ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز وکالت سے کیا اور 2000 سے 2009 تک اکھل بھارتیہ ادھیوکتا پریشد کے جنرل سکریٹری رہے۔

کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے اراولی پہاڑی سلسلے کی نئی تعریف کے معاملے پر سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں زیادہ تر موجودہ یا سابق سرکاری افسران شامل ہیں، جس سے اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے ہیں۔

چیئرمین گوتم اڈانی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آج کی جدوجہد غیر ملکی اقتدار سے آزادی کے لیے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سماجی اختراع میں خودکفالت کے لیے ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی ’’دوسری جنگِ آزادی‘‘ قرار دیا جس کا مقصد ہر طبقے کو بااختیار بنانا اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔

ریکارڈ سطح کی سرگرمی، مگر نئے حکومتی ضوابط سے آئندہ برسوں میں گرین اوپن ایکسیس منصوبے متاثر ہونے کا خدشہ۔ سال 2024 میں بھارت نے کلین پاور آکشنز میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا، جہاں 59 گیگاواٹ (AC) صلاحیت کے منصوبے الاٹ کیے گئے — جو پچھلے سال کے مقابلے میں دو گنا سے زیادہ ہے۔

آج کے فیصلے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت نہ صرف ماحول دوست پالیسیوں کے لیے پرعزم ہے بلکہ کسانوں، ماحول اور معیشت کے بیچ ایک متوازن ترقی کو یقینی بنانے کے لیے بھی سنجیدہ ہے۔

شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے مشترکہ عزم کو مضبوط کرنے، اقتصادی شراکت داری کی ترجیحات کو مزید تلاش کرنے، علاقائی منڈیوں کے انضمام اور پائیداری کو گہرا کرنے، ڈیجیٹل تبدیلی کی اہمیت کو سمجھنے، سرکاری اور نجی شعبوں کی شراکت اور عوام کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا۔

نائب صدرجمہوریہ ہند  جگدیپ دھنکھڑ نے  عالمی خطہ جنوب  کی ترقی کو آگے بڑھانے میں ہندوستان کی جامع تکسیریت کے نقطہ نظر کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ‘‘ہندوستان کا عروج،  درخشاں جمہوریت اور عالمی استحکام اور امن کو فروغ دے گا۔

کولکاتہ میں واقع امریکی قونصل خانہ کی جانب سے شروع کیا گیا ’ یَنگ اَن ہرڈ وائسیز فار ایکشن‘ (یووا )منصوبہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے متفکر اور فعال نوجوان نسل کی تربیت کر رہا ہے۔