Bharat Express DD Free Dish

Citizens of Israel

اسرائیل اس وقت صحت کے شعبے میں دو محاذوں پر جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک طرف خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف شہریوں میں ویکسین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہچکچاہٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ وہ ملک جو برسوں تک بچوں کی باقاعدہ ویکسینیشن میں تقریباً بہترین ریکارڈ رکھتا رہا، کووڈ-19 وبا کے بعد پیدا ہونے والی ویکسین کے حوالے سے بے اعتقادی نے اس اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔

گیارہ سال کے طویل انتظار کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش اسرائیلی حکام کے حوالے کر دی ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نے کہا کہ ”ریاست کے قیام سے ہی یہ ہمارا اصول رہا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کو واپس لاتے ہیں۔ آج ہم وہی کر رہے ہیں۔ ہمیں لیفٹیننٹ حیدر گولڈن کی لاش موصول ہو گئی ہے اور شناخت کی باضابطہ تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے“۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے علاقائی دورے کے دوسرے مرحلے میں ہفتے کے روز دمشق (شام) پہنچے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مسلسل حملوں کے درمیان لبنان اور غزہ میں جنگ بندی کی پہل کی گئی ہے، ہمیں امید ہے کہ اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اتوار کو شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جبکہ لبنانی وزیراعظم نجیب میقاتی نے اسرائیلی حملوں میں شدت کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تقریباً ایک سال کی جنگ میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے لبنان کے جنوب میں شدید بمباری کی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق راکٹوں سے حیفہ کے قریب عمارتوں کو نقصان پہنچا، کئی کاروں میں آگ لگ گئی اور  کم از کم تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔اے ایف پی کےمطابق اسرائیلی فوج نے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ’وہ اس وقت لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

سابق آئی ڈی ایف افسر کا کہنا تھا ایران اور حماس کی اسرائیل کو ختم کرنے کی دھمکیاں خالی دھمکیاں نہیں ہیں، حماس سے جاری جنگ اور حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی کے باعث اسرائیل کے لیے خطرات کے حوالے صیہونی ریاست کے وزیر دفاع یوآف گیلانت بھی اچھی طرح باخبر ہیں۔

 ٹائمس آف اسرائیل کے مطابق یہ احتجاج معمول سے زیادہ بڑے تھے جن میں شریک لوگ وزیراعظم نیتن یاہو پر شدید غصہ تھے کیونکہ انہوں نے گزشتہ ہفتے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف ایک ’جزوی معاہدے‘ پر دستخط کرنے کیلئے تیار ہے جس کے تحت غزہ میں اسرائیلی فوجی آپریشن جاری رہے گا۔

اسرائیلی وزیراعظم کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ حماس کو فی الحال ختم کرنا یا اس جنگ کا خاتمہ مستقبل قریب میں ممکن نہیں ہے چونکہ حماس ابھی بھی جوان ہے۔اور اسی لئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو  یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جنگ 2025ء تک جاری رہ سکتی ہے۔

پوپ نے کہا کہ انہوں نے براہ راست سنا ہے کہ تنازعہ میں "دونوں فریق کس طرح کا شکار ہیں۔جنگیں یہی کرتی ہیں۔ لیکن یہاں ہم جنگوں سے آگے نکل چکے ہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ یہ دہشت گردی ہے۔انہوں نے لوگوں کو دعاؤں کے لیے کہا تاکہ دونوں فریق "جذباتی اندازمیں مزید آگے نہ بڑھیں، جس کا نتیجہ ہلاکت اور موت ہے۔

یہ بات یقینی ہے کہ اگر عالمی جنگ ہوئی تو وہ صرف عرب اسرائیل تک محدود نہیں رہے گی۔ دنیا بھر میں بالادستی کی لڑائی متعدد محاذوں کو جنم دے گی۔ یہ محاذ بھارت پاکستان اور بھارت چین سرحد بھی ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے خطرناک ہو گی۔ امریکہ کی اسرائیل کے ساتھ جو قربت ہے وہ ہندوستان کے ساتھ نہیں ہے۔