Bharat Express DD Free Dish

Bus Accident

بس کالیکا انگلش بورڈنگ اسکول کی تھی۔کاسکی ضلع پولیس دفتر کے سربراہ پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین کارکی نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ حادثے میں 5 افراد کی موت کی تصدیق ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، حادثے کے وقت بس میں 17 طلبہ، ایک دیگر مسافر اور ڈرائیور سوار تھے۔

ریوا-سدھی ہائی وے پر بس اور بلکر کی ٹکر میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ 3 سالہ بچی لاپتہ ہے اور کھائی میں اس کی تلاش جاری ہے۔ پی ایم مودی نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مصر کے وزیر صحت خالد عبدالغفار نے حکام کو زخمیوں کو بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ وہیں، وزیر سماجی یکجہتی مایا مرسی نے حادثے سے متاثرہ افراد کے لیے فوری امدادی سامان اور ضروری مدد فراہم کرنے کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

پولیس کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر درگاپورم اسٹیج کے قریب پیش آیا، جہاں بس ٹرک سے جا ٹکرائی۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد سے وجے واڑہ جانے والی بس میں مجموعی طور پر 43 مسافر سوار تھے۔ پولیس کے مطابق ’’حادثہ درگاپورم کے قریب پیش آیا۔ ہم نے جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے اور فی الحال معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘‘

اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں گنگا ایکسپریس وے پر بہرائچ سے پنجاب جا رہی ایک ڈبل ڈیکر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، جس کے نتیجے میں دو مسافروں کی موت ہو گئی، جبکہ 25 سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ پولیس کی ابتدائی جانچ کے مطابق حادثے کی ممکنہ وجہ ڈرائیور کو سفر کے دوران آنے والی اونگھ یا نیند کی جھپکی بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث بس بے قابو ہو کر ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی ۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند کے مطابق، حادثہ دانا سر علاقے میں ہوا، جو بلوچستان اورخیبرپختونخوا صوبوں کی سرحد کے پاس کا یہ ایک ناقابل رسائی علاقہ ہے۔

پولیس کے مطابق حادثے کا شکار نجی ولوو بس بہار رجسٹریشن نمبر کی تھی، جو لکھنؤ سے دہلی جا رہی تھی۔ اسی دوران راجستھان رجسٹریشن نمبر کا بجری سے لدا ٹریلر ایکسپریس وے کی تیسری لین میں چل رہا تھا، تیز رفتار بس پیچھے سے اس سے جا ٹکرائی۔

چند ہی منٹوں میں آگ نے پوری سلیپر کوچ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بس آگ کے ایک بڑے گولے میں تبدیل ہوگئی۔ آگ کے شعلے اور دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دینے لگے، جس سے شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس کی صورتحال پیدا ہوگئی۔

پولیس اور امدادی ٹیمیں اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو فوری طور پر سیان اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال کے اسسٹنٹ میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رندھیر کے مطابق تقریباً 22 سے 25 سال عمر کے ایک نوجوان کو اسپتال لایا گیا تھا، لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکا تھا۔

گجرات کی ٹیم بس میں شارٹ سرکٹ ہونے کی وجہ سے ہنگامہ مچ گیا۔ حالانکہ اس حادثے میں سبھی کھلاڑیوں کو محفوظ نکال لیا گیا ہے۔ یہ حادثہ اس وقت ہوا، جب کھلاڑی فائنل میں ملی ہارکے بعد ٹیم ہوٹل لوٹ رہے تھے۔