Bharat Express DD Free Dish

BJP

مخصوص بی ٹی سی ٹیچرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی درخواست پر، مخصوص بی ٹی سی – 2004 کے انتخابی عمل کے ذریعے تعینات اساتذہ کو پرانی پنشن کا فائدہ دینے کا مطالبہ کرنے والا خط وزیر اعلیٰ کو ارسال کیا گیا۔

کندرکی اسمبلی سیٹ پربی جے پی 31 سال بعد کافی بڑی جیت درج کرتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ یہ سیٹ مسلم اکثریتی ہونے کی وجہ سے یہاں سے بی جے پی کوچھوڑکر سبھی پارٹیوں نے مسلم امیدوار میدان میں اتارا تھا۔ بی جے پی امیدواررام ویر سنگھ ایک لاکھ سے زیادہ ووٹوں سے جیت حاصل کر رہے ہیں۔

مہاراشٹرمیں مہایوتی کی جیت میں بی جے پی کا اسٹرائیک ریٹ سب سے زیادہ شاندارہے۔ اس جیت پر دیویندر فڑنویس کا ردعمل آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہیں توسیف ہیں اورمودی ہیں توممکن ہے۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستوں میں ضمنی انتخابات کے لیے ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ ان انتخابات کے شروعاتی رجحانات بھی سامنے آ گئے ہیں۔

اتر پردیش کی نو اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات کے لیے 20 نومبر کو ووٹنگ کے بعد، آج یعنی 23 نومبر کو نتائج کا دن ہے۔ آج 9 اسمبلی سیٹوں پر 90 امیدواروں کی قسمت کے فیصلہ کا دن ہے۔

نارائن رانے کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب مہاراشٹر حکومت الیکشن کے نتائج میں کچھ ہی گھنٹوں کا وقت رہ گیا ہے۔ نتائج سے پہلے ان کا یہ بیان کافی اہم مانا جا رہا ہے۔

بی جے پی لیڈرونود تاؤڑے نے ووٹنگ والے دن ان الزامات کوخارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں ضوابط اچھی طریقے سے معلوم ہیں اوروہ بے وقوف نہیں ہیں کہ وہ ہوٹل میں ایسا کام کریں گے۔

اکھلیش یادو نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی دھرم کے راستے پر نہیں چلتی، دھرم کا راستہ انصاف کا راستہ ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹ کی لوٹ کی۔ یہ لوگ ہر الیکشن میں کوئی نہ کوئی لوٹ مار کا طریقہ کار اپناتے ہیں۔ حکومت اگنیور نظام کو ختم نہیں کر سکی، ملک اور ریاست میں بے روزگاری عروج پر ہے، مہنگائی عروج پر ہے۔

جھارکھنڈ کی 81 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13 اور 20 نومبر کو دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوئی تھی۔ ریاست میں اکثریتی تعداد 41 ہے۔ P-Mark کے ایگزٹ پول کے تخمینے کے مطابق، ایسا لگتا ہے کہ انڈیا اتحاد کو جھارکھنڈ میں مکمل اکثریت حاصل ہو سکتی ہے۔

مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی الیکشن میں جہاں ایک طرف بی جے پی حکومت بنانے کا دعویٰ کررہی ہے، تووہیں دوسری طرف ایک ریاست میں بی جے پی کے 19 اراکین اسمبلی میٹنگ میں ہی نہیں آئے۔ اس کے بعد کانگریس نے سوال اٹھائے ہیں۔