Urdu Conclave 2026

BJP

سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے اورنگ زیب پراپنے رخ کے بعد ہنگامہ آرائی کی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے الفاظ کو توڑمروڑکردکھایا گیا ہے۔ اورنگ زیب کے بارے میں میں نے وہی کہا ہے، جو مؤرخین نے لکھا ہے۔

ہریانہ میں شہری بلدیاتی انتخابات کے لیے آج ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے اس کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی گئی ہیں۔

ملک میں بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں مسلمانوں کے زیر انتظام چلنے والی بعض یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے جانے پر جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے افسوس کا اظہار کیا۔

دہلی بی جے پی کے صدر وریندر سچدیوا نے حال ہی میں اس معاملے پر کہا کہ سی اے جی کی یہ رپورٹ اروند کیجریوال، منیش سسودیا اور عام آدمی پارٹی کی منمانہ طریقہ سے کئے گئے امور کو بے نقاب کرتی ہے۔

دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی کلکی دھام کے سربراہ آچاریہ پرمود کرشنم نے اپنی پیشین گوئی کی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں ہر جگہ سناتن کا جھنڈا لہراتا ہوا نظر آئے گا۔

راجستھان اسمبلی میں بی جے پی اورکانگریس کے درمیان تکرار مسلسل جاری ہے۔ اس درمیان، کانگریس کے ریاستی صدرگووند سنگھ ڈوٹاسرا کے بیان سے متعلق اسمبلی اسپیکرواسودیو دیونانی جذباتی ہوگئے۔

سیشن کے دوسرے دن ہی لیفٹیننٹ گورنرکے خطاب میں رخنہ اندازی کرنے کے الزام میں عام آدمی پارٹی کے سبھی موجود 21 اراکین اسمبلی کو تین دنوں کے لئے یعنی 28 فروری تک کے لئے معطل کردیا گیا ہے۔ صرف امانت اللہ خان کو نہیں معطل کیا گیا ہے۔

الحاج محمد عرفان احمد نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دہلی اسمبلی الیکشن 2025 میں بھارتیہ جنتا پارٹی ((بی جے پی) کو بھاری اکثریت کے ساتھ دہلی میں حکومت بنانے میں دہلی کی مسلم آبادی میں سے پسماندہ مسلم سماج نے دہلی کے 70 اسمبلی حلقوں میں بی جے پی کے امیدواروں کو تقریباً 15 فیصد سے زیادہ ووٹ دے کر حکومت بنا نے میں بھرپور مدد کرکے خصوصی تعاون کیا، جس کیلئے دہلی کے پسماندہ مسلم سماج کاخصوصی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔

بی جے پی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے ہر سوال کا پوری تیاری کے ساتھ جواب دیا جائے گا، تاکہ اپوزیشن کو کسی بھی معاملے پر حاوی ہونے کا موقع نہ ملے۔

بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے کہا، 'پنجاب حکومت کے بحران کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے یہ سمجھنے میں تقریباً 20 مہینے لگے کہ جو محکمہ اس کے کسی وزیر کو تفویض کیا گیا ہے وہ حقیقت میں کبھی موجود ہی نہیں تھا۔