Bharat Express DD Free Dish

BJP

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے جی ایس ٹی اصلاحات کے نفاذ کے بعد سے ملک بھر میں متعدد تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اسی سلسلے میں بی جے پی ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ لکھنؤ میں جی ایس ٹی ریفارمز کانکلیو کا انعقاد کر رہے ہیں۔

لوک گیتوں کی مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکر نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔پٹنہ میں پارٹی صدر دلیپ جیسوال کی موجودگی میں انہیں ممبر بنایا گیا ہے۔ بی جے پی میتھلی ٹھاکر کو دربھنگہ کی علی نگر سیٹ سے امیدوار بنا سکتی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے سیٹ شیئرنگ سے متعلق این ڈی اے میں سیاسی ہلچل کے درمیان ہندستانی عوام مورچہ کے سربراہ اور مرکزی وزیر جیتن رام مانجھی نے ناراضگی کی افواہوں کو مسترد کر دیا ہے۔

جموں و کشمیر کی چار راجیہ سبھا نشستوں پر 24 اکتوبر کو انتخابات ہوں گے۔ بی جے پی اور نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد کے درمیان ان نشستوں کو لے کر مقابلہ کافی سخت ہوتا جا رہا ہے۔جانیں مکمل سیاسی صورتحال

میڈیا سے بات کرتے ہوئے آکاش امبانی نے کہا کہ یہ ہندوستان کے لیے ایک انقلابی قدم ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمیں ان کے جیسا لیڈر ملا۔

بی جے پی لیڈر روی شنکر پرساد نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار میں 24 برس مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے مغربی بنگال میں اپوزیشن لیڈران پر ہونے والے حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔

پون سنگھ نے لوک سبھا انتخابات 2024 کے وقت بھی بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن من چاہی سیٹ نہ ملنے پر آزاد امیدوار کے طور پر کاراکاٹ سے الیکشن لڑا۔ یہ فیصلہ پون سنگھ کو بھاری پڑا اور انہیں اس سیٹ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا

امت شاہ نے بہار کے مغربی چمپارن کے علاقے بیتہ میں بی جے پی کارکنان کے اجلاس سے اپنے دورے کا آغاز کیا۔ انہوں نے چمپارن اور سارن علاقوں سے آئے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد، عزم اور چاق و چوبند رہنے کی اپیل کی، اور زور دیا کہ این ڈی اے کو فیصلہ کن اکثریت سے کامیابی دلوانا ان کا ہدف ہونا چاہیے۔

وزیراعظم مودی کے ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا پر دنکر کی شاعری اور ان کے خدمات پر زبردست چرچا ہوا۔ مختلف پروگراموں میں مشاعرے، لیکچر اور علمی اجلاس منعقد کر کے ان کے خیالات اور تخلیقات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔

نریندر مودی کی شاعری محض فنونِ لطیفہ میں ایک مشق نہیں ہے — یہ ایک ایسے رہنما کی روح  میں جھانکتی ہے جو حکمرانی کو وقار کے ساتھ، حکمت عملی کو حساسیت کے ساتھ اور طاقت کو شاعری کے ساتھ توازن میں رکھتا ہے۔ آج کے دور میں جب تقریریں اور نعرے سیاست پر حاوی ہیں، ان کے اشعار یاد دلاتے ہیں کہ ایک منجھے ہوئے سیاستداں کے پیچھے ایک چھپا ہوا شاعر بھی موجود ہے — جو خاموشی سے ایک قوم کی روح اور ایک انسان کے سفر کو قلمبند کرتا ہے۔