Bharat Express DD Free Dish

BJP

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے بارے میں کمارسوامی نے الزام لگایا کہ اس میں چیف منسٹر سدارامیا کے علاوہ "متعدد وزرائے اعلیٰ" ہیں اور پارٹی کی سرکار شروع میں ہی پٹڑی سے اتر گئی ہے۔

جے رام رمیش نے مزید کہا کہ کانگریس مہاراشٹر کو بی جے پی کے چنگل سے آزاد کرانے کی اپنی کوششیں تیز کرے گی۔بتا دیں کہ کانگریس مہا وکاس اگھاڑی اتحاد کا حصہ ہے، جس میں شیوسینا (اُدھو بالا صاحب ٹھاکرے) اور این سی پی بھی شامل ہے۔

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) لیڈر اجیت پوار اتوار کے روز ایکناتھ شندے کی قیادت والی مہاراشٹر سرکار میں پارٹی کے آٹھ دیگر افراد کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ممبئی کے راج بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں گورنر رمیش بیس نے پوار کو نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف دلایا، جب کہ این سی پی کے دیگر آٹھ لیڈران نے وزیر کے طور پر حلف لیا۔

پورے پروگرام کو چلانے کے لیے عوام کی شرکت کو یقینی بنانے اور بڑے پیمانے پر بیداری پیدا کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر نگرانی کا طریقہ کار بنایا جائے گا۔ اسکریننگ میں بیمار پائے جانے والوں کے لیے باقاعدگی سے جانچ، علاج اور ادویات، دیگر بیماریوں کی ویکسینیشن، خوراک کی معاونت اور وقتاً فوقتاً مشاورت کی سہولیات کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

'گوئبلز'  سے کھڑگے کا شارہ نازی تاناشاہ ایڈولف ہٹلر کے وزیر جوزف گوئبلز کی طرف سمجھا جا رہا ہے، جسے جھوٹ اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے جانا جاتا تھا۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے راجستھان کے ادے پور میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے مرکزی حکومت کے 9 سالہ دور حکومت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے 9 سال قابل فخر کارناموں اور ترقی  کی سرگرمیوں کے انجام دینے سے پُر ہیں ۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی مہنگائی کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں حکومت کو نشانہ بنایا۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ پچھلے 9 سالوں سے عوام صرف مہنگائی کی آگ میں جل رہی ہے۔ نوجوان روز گار کے حصول کے لئے بھٹک رہے ہیں،لوگ پریشان ہیں، تاہم مرکزی حکومت کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

بی جے پی کے قومی ترجمان اور منی پور کے انچارج سمبت پاترا نے کہا کہ مقامی انتظامیہ نے ریاست میں موجودہ کشیدگی کے پیش نظر راہل گاندھی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے چوراچند پور جانے کو کہا تھا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور سڑک کے راستے دورہ کرنے چلے گئے۔

سامنا نے لکھا ہے کہ یہ پارٹی (بی آر ایس) مہاراشٹر میں الیکشن لڑے گی یا ووٹوں کو تقسیم کرکے سیاسی طور پر بی جے پی کی مدد کرے گی، اس چال کو مقامی لوگوں کو وقت آنے پر اچھی طرح پہچان لینا چاہئے۔

سروے میں یہ پتہ لگانے کی کوشش کی گئی کہ دونوں پارٹیوں میں سے کس کو کتنی سیٹیں ملیں گی اور کس کو کتنا ووٹ شیئر ہوگا۔ اس حوالے سے ریاست کے 17 ہزار لوگوں سے ایک سوال پوچھا گیا تھا کہ کس پارٹی کو کتنی سیٹیں مل سکتی ہیں، اس کے بعد جو نتائج آئے وہ واقعی حیران کن تھے۔