Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ ’یہ انتہا پسند، قابض ذہنیت یہ نہیں سمجھتی کہ فلسطینی سرزمین فلسطین کے برادر لوگوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے اور اس سرزمین سے ان کا جذباتی، تاریخی اور قانونی تعلق کیا ہے، اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ فلسطینی عوام پہلے مقام پر رہنے کے مستحق ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کے جائزے کے بغیر اسرائیل کو اسلحہ فروخت کا اعلان کیا۔میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ اسرائیل کو فروخت کیے جانے والے اسلحہ میں ہزاروں ہیل فائر میزائل اور بم شامل ہیں۔

امریکہ کے صدرڈونالڈ ٹرمپ نے 4 فروری کو بنجامن نیتن یاہوکے ساتھ ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ اس میں انہوں نے غزہ پٹی کی تعمیر نو کے لئے ایسا پلان پیش کیا تھا، جو غزہ کے ساتھ مسلم ممالک بھی تسلیم نہیں کریں گے۔

منگل کے روز، ٹرمپ نے غزہ کی ترقی کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطینیوں کی نقل مکانی مستقل ہو گی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ان پر نسلی کشی کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عرب رہنماؤں نے اس کی مذمت کی ہے۔

نیتن یاہو کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے بات چیت شروع ہونے والی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنگ بندی اور یرغمالی معاہدے کی شرائط کے مطابق معاہدے کے دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات پہلے مرحلے کے 16ویں دن یعنی اگلے پیر سے شروع ہونے چاہئیں۔

شام میں امریکہ کا التنف بیس اسرائیل کی سیکورٹی کے لئے بے حد خاص ہے۔ اگرامریکہ شام سے باہرنکلا تو یہ اسرائیل کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی۔ اسد حکومت کے خاتمہ کے بعد اسرائیل سے متصل شام سرحد سے اسرائیلی فوج کئی کلو میٹراندرتک آگئی ہے اوران کے قبضے کے خلاف شام میں غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے آرمی چیف کے اس اعلان کو بنیاد بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو بھی آرمی چیف کے ساتھ ہی استعفا دے کر گھر جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت اگیا ہے کہ نیتن یاہو کی پوری حکومت حماس کے سلسلے میں اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے مستعفی ہو جائے۔

اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ اور 12 دن بعد جنگ بندی کے معاہدے پر تقریباً 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمل درآمد شروع ہو گیا تھا، چند گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے اسرائیلی حملوں میں مزید 19 فلسطینی شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں سے 50 ایندھن لے جانے والے ٹرک اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں عام شہری سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن غزہ سے تین خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک ان کے نام فراہم کرنے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔