Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان 15 ماہ اور 12 دن بعد جنگ بندی کے معاہدے پر تقریباً 3 گھنٹے کی تاخیر کے بعد عمل درآمد شروع ہو گیا تھا، چند گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے اسرائیلی حملوں میں مزید 19 فلسطینی شہید اور 36 زخمی ہوئے تھے۔

جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں ہر روز انسانی امداد کے 600 ٹرکوں کو جانے کی اجازت دی جائے گی۔ ان میں سے 50 ایندھن لے جانے والے ٹرک اور 300 ٹرک شمال کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں عام شہری سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حکام کے مطابق جنگ بندی کے پہلے دن غزہ سے تین خواتین یرغمالیوں کو رہا کیا جانا ہے۔ حماس کو ہفتے کی دوپہر تک ان کے نام فراہم کرنے تھے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمالیوں کو غزہ واپس لے گئے۔ اس کے بعد یہودی ملک نے حماس کے زیر قبضہ غزہ پٹی پر حملے شروع کر دیے۔ اسرائیل کی فوجی کارروائی نے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق ہفتہ تک، تقریباً 46,899 فلسطینی ہلاک اور کم از کم 110,725 زخمی ہو چکے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری کے بعد، معاہدے کے مخالفین ان فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں، جنہیں رہا کیا جانا ہے، حالانکہ عدالت کی مداخلت کا امکان نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’درجنوں یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف‘ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد ’اہم جنگی سازوسامان اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کی دوبارہ فراہم کرکے اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی حمایت کرنا ہے۔‘

سعودی عرب کی طرف سے مقبوضہ گولان میں آبادکاری کو وسعت دینے کے اسرائیلی قابض حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے شام کی سلامتی اور استحکام کو دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات کو مسلسل سبوتاژ کرنے کے اسرائیلی اقدامات کی بھی مذمت کی۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے پیرکے روز کہا کہ تقریباً 60 سالوں سے اسرائیل کے قبضے میں رہا گولان ہائٹس ہمیشہ کے لئے اسرائیل کا ہی رہے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے نومنتخب صدرڈونالڈ ٹرمپ کوان کی پہلی مدت کار کے دوران اس خطے میں اسرائیل کے قبضے کو منظوری دینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔