Bharat Express DD Free Dish

Benjamin Netanyahu

حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمالیوں کو غزہ واپس لے گئے۔ اس کے بعد یہودی ملک نے حماس کے زیر قبضہ غزہ پٹی پر حملے شروع کر دیے۔ اسرائیل کی فوجی کارروائی نے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق ہفتہ تک، تقریباً 46,899 فلسطینی ہلاک اور کم از کم 110,725 زخمی ہو چکے ہیں۔

حکومت کی طرف سے اس معاہدے کی منظوری کے بعد، معاہدے کے مخالفین ان فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر سکتے ہیں، جنہیں رہا کیا جانا ہے، حالانکہ عدالت کی مداخلت کا امکان نہیں ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن اور نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ’درجنوں یرغمالیوں اور ان کے اہل خانہ کی تکالیف‘ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے کو آگے بڑھانے میں مدد کی۔

جورڈن نے اس نقشے کو اسرائیل کی توسیع پسندانہ منصوبے کا حصہ بتایا ہے۔ عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابوالغیط نے اسے اکسانے کی کارروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نےخبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے قدم  انتہا پسندی کو بڑھاوا دے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کانگریس کو بتایا کہ اس معاہدے کا مقصد ’اہم جنگی سازوسامان اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کی دوبارہ فراہم کرکے اسرائیل کی طویل مدتی سلامتی کی حمایت کرنا ہے۔‘

سعودی عرب کی طرف سے مقبوضہ گولان میں آبادکاری کو وسعت دینے کے اسرائیلی قابض حکومت کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے شام کی سلامتی اور استحکام کو دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات کو مسلسل سبوتاژ کرنے کے اسرائیلی اقدامات کی بھی مذمت کی۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے پیرکے روز کہا کہ تقریباً 60 سالوں سے اسرائیل کے قبضے میں رہا گولان ہائٹس ہمیشہ کے لئے اسرائیل کا ہی رہے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے نومنتخب صدرڈونالڈ ٹرمپ کوان کی پہلی مدت کار کے دوران اس خطے میں اسرائیل کے قبضے کو منظوری دینے کے لئے شکریہ ادا کیا۔ 

اسرائیل اور حماس کی لڑائی کو روکنے اور بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے امریکہ، مصر اور قطر کی ثالثی میں کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ حماس کا زور جنگ کے خاتمے اور تمام آئی ڈی ایف فورسز کو واپس بلانے پر رہا ہے۔ دوسری جانب نیتن یاہو نے ان شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

منگل کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنانی فوج ایک بار پھر اس کی سرزمین پر قبضہ کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگلے 60 دنوں کے دوران، اسرائیل آہستہ آہستہ اپنی باقی افواج اور شہریوں کو واپس بلا لے گا- دونوں طرف کے شہری جلد ہی بحفاظت اپنی برادریوں میں واپس جا سکیں گے اور اپنے گھروں کی تعمیر نو شروع کر سکیں گے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سیزفائر ک اعلان ہوچکا ہے، جلد ہی اسرائیلی فوجی لبنان سے لوٹ جائیں گے۔ 30 ستمبر سے اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی حملے کی شروعات کی تھی اور تقریباً 2 ماہ بعد جنگ بندی معاہدہ کرلیا گیا ہے۔ تاہم ایسی کیا وجہ ہے کہ تمام عالمی دباؤ کے باوجود غزہ میں سیز فائر سے انکار کرنے والے نیتن یاہو کو اس معاہدے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔