Bharat Express DD Free Dish

BCCI

پاکستانی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ 2026 میں اس کی ٹیم بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گی۔ آئی سی سی نے اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ سے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی ہے۔ اب اس معاملے پر بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلا کا پہلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔

پاکستان نے ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 سے عین قبل بھارت سے کھیلنے سے انکارکر دیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پرحکومت اور بی سی سی آئی پر سخت تنقید کرتے ہوئے قومی احترام کا حوالہ دیتے ہوئے اس طرح کے تعلقات کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان نے 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ آئی سی سی نے پی سی بی کو سنگین نتائج بھگتنے کی وارننگ دی ہے۔ دریں اثنا، پرینکا چترویدی نے آئی ایم ایف کے قرض پر طنز کسا ہے، جو اب سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔

آئی سی سی کے کئی بار سمجھانے، منانے اوربھروسہ دلانے کے باوجود بنگلہ دیش حکومت نے اپنی ٹیم کو ٹی-20 ورلڈ کپ کے لئے ہندوستان بھیجنے کی رضامندی نہیں دی۔ اس کی وجہ سے نہ صرف اسے اس ورلڈ کپ میں اپنی جگہ گنوانی پڑے گی بلکہ ایک بڑے ٹورنا منٹ کی میزبانی بھی اس سے چھن جائے گی۔

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے حوالے سے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے 21 جنوری تک کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن سے ایک دن قبل بنگلہ دیش حکومت کے کھیل مشیر آصف نذرل نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی بنگلہ دیش پر بھارت میں اپنے میچ کھیلنے کا دباؤ نہیں بنا سکتا۔

بھارتیہ کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) سینٹرل کانٹریکٹ میں بڑی تبدیلی کرسکتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹیم انڈیا کے سینٹرل کانٹریکٹ سے اے پلس کیٹیگری غائب ہونے والی ہے۔ وراٹ کوہلی-روہت شرما اور جسپریت بمراہ جیسے کھلاڑیوں کی تنخواہ کم کی جائے گی۔

چاروں طرف سے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد بی سی بی بیک فٹ پر آ گیا ہے۔ بدھ کی شام بورڈ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے نجمل الاسلام کے بیان سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیا۔ بی سی بی نے واضح کیا کہ یہ خیالات نجمل الاسلام کے ذاتی ہو سکتے ہیں،

آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ 2026 سے قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے بنگلہ دیش نے بھارت میں میچ کھیلنے سے انکار کر دیا ہے، تاہم آئی سی سی نے شیڈول میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے صاف انکار کر دیا ہے۔

ورلڈ کپ شروع ہونے میں ایک ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے، لیکن بنگلہ دیش بھارت آنے سے ہچکچا رہا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے لیے الگ پالیسی ہے، لیکن بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کو مکمل حفاظت فراہم کی جائے گی۔ جانیے کہ کیا ٹیم انڈیا کے خلاف بنگلہ دیش کا یہ اقدام کارگر ثابت ہوگا؟

کانگریس لیڈر راکیش سنہا نے واضح کیا کہ قانون کے دائرے میں رہ کر لیے گئے تمام فیصلے سب کے لیے قابلِ قبول ہونے چاہئیں۔ جمہوریت کی مضبوطی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری سے ہی ممکن ہے، اور عدالتی احکامات کا احترام کرنا ہر شہری اور ہر سیاسی جماعت کا فرض ہے۔