Bharat Express DD Free Dish

Bareilly news

ذرائع کے مطابق بزرگ اپنی بیوی کو علاج کے لیے ضلع اسپتال بریلی کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا تھا۔ خاتون کی طبی حالت کافی نازک بتائی جارہی تھی۔ بزرگ شخص کا الزام ہے کہ صبح سے اسپتال میں موجود رہنے کے باوجود ان کی اہلیہ کو نہ مناسب علاج فراہم کیا گیا اور نہ ہی بروقت داخل کیا گیا۔

بریلی میں استعفیٰ دینے کے بعد سٹی مجسٹریٹ اَلنکار اگنی ہوتری لکھنؤ پہنچے۔ عالم باغ میں واقع رشتہ داروں کے گھر کے باہر پولیس نے سخت سکیورٹی حصار قائم کر دیا ہے اور ان کی تمام سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

اَلنکار اگنی ہوتری کے استعفے پر اوی مکتیشورانند  نے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے عہدے تک پہنچنے کے لیے لوگ برسوں محنت کرتے ہیں۔ ایک سٹی مجسٹریٹ کا استعفیٰ اس بات کی علامت ہے کہ ان کے دل میں سناتن دھرم کے لیے کتنا احترام ہے۔

شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی کی مبینہ توہین اور یو جی سی کے متنازعہ قواعد کے خلاف بریلی کے سٹی مجسٹریٹ النکار اگنی ہوتری کے استعفے نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس معاملے پر شنکراچاریہ اویمکتیشورانند کا سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو ابھی شروعات ہے اور پورا ملک اس وقت شدید غم و غصے میں ہے۔

پولیس کے مطابق، فرمان رضا الہ آباد جانے کے لیے نکلا تھا، لیکن راستے میں اچانک منصوبہ بدل کر واپس لوٹ رہا تھا، اسی دوران یہ حادثہ پیش آیا۔ ایس پی دیہی دِکشا ارون بھونرے نے بتایا کہ ملزم کو حراست میں لے کر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔

اتر پردیش کے فریدپور اسمبلی حلقہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکنِ اسمبلی ڈاکٹر شیام بہاری لال کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ وہ بریلی کے سرکٹ ہاؤس میں پارٹی کی ایک اہم میٹنگ میں شریک تھے کہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کا یومِ پیدائش صرف ایک دن قبل ہی، یکم جنوری کو منایا گیا تھا۔ ان کے اچانک انتقال سے سیاسی حلقوں اور عوام میں گہرے صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

بریلی تشدد میں شامل ادریس اوراقبال نامی دوملزمین کا سیبی گنج میں انکاؤنٹر ہوا۔ پولیس کے مطابق، انہوں نے پہلے فائرنگ کی تھی۔ ادریس اور اقبال کو انکاؤنٹر کے بعد پولیس نے پکڑلیا ہے۔ اب دونوں پولیس حراست میں ہیں۔

اترپردیش کے بریلی سے ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے۔ بی جے پی لیڈرنے مذہب تبدیل کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ پارٹی میں رہنے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

مولانا توقیر رضا نے کہا ہے کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان جوڑوں کی شناخت عام نہیں کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی 23 درخواستیں ہیں جن میں لوگوں نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

واضح رہے کہ قتل کا کلیدی ملزم ساجد کوانکاؤنٹرمیں مار گرائے جانے کے بعد پولیس دوسرے ملزم جاوید کی تلاش کر رہی تھی۔ جاوید کی تلاش میں بدایوں پولیس نے گزشتہ رات کئی مقامات پرچھاپہ ماری کی تھی۔ اس دوران جاوید کے والد اورچچا سے پوچھ گچھ کی گئی تھی۔