Bharat Express DD Free Dish

Barack Obama

وزیر اعظم مودی مختلف ممالک کے سربراہان کو ایسے تحائف پیش کرتے ہیں جو نہ صرف بھارت کی تہذیب، ثقافت اور روحانی ورثے کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک گہرا سفارتی پیغام بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران نیوکلیئر ڈیل سے متعلق براک اوباما اور جو بائیڈن کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ حکومت نے اربوں ڈالر نقد ایران بھیجے تھے اور یہ معاہدہ امریکہ کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔

ہالی ووڈ میں بھی 2016 پرینکا کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہ اپنے پہلے امریکی ٹی وی شو ’کوانٹیکو‘ میں الیکس پیرش کے کردار میں نظر آئیں۔ اس شو نے نہ صرف امریکہ بلکہ کئی دیگر ممالک میں بھی زبردست مقبولیت حاصل کی اور پرینکا کو بین الاقوامی شہرت ملی۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ برسوں کے جبر کے باعث ایران کی قیادت نے خود ہی اس بدامنی کو جنم دیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق،انہوں نے بہت غلط کام کیے ہیں۔ انہوں نے اپنے عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اب اسی کا نتیجہ بھگت رہے ہیں۔

ٹرمپ کو امریکی چیف جسٹس جان رابرٹس حلف دلائیں گے۔ اس دوران ڈونلڈ ٹرمپ دو بائبلوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے عہدے کی رازداری کا حلف اٹھائیں گے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ ہندوستان کے 1991 کے اقتصادی اصلاحات کے معمار مانے جاتے ہیں۔ وزیرخزانہ اوربعد میں وزیراعظم کے طورپر ان کی مدت کارنے ہندوستان کے معاشی منظر نامہ کو تبدیل کیا، اس کی پالیسیوں کوجدید بنایا اور ملک کوعالمی معیشت میں ضم کیا۔

کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے لیے جارجیا میں ایک تقریب میں پہنچنے  اوباما نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کو ایک اور موقع دینا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ اوباما نے کہا کہ ہمیں ایسا آمر نہیں چاہیے جو اپنے دشمنوں کو سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا ہو۔

ذرائع کا خیال ہے کہ کملا ہیرس گزشتہ چند مہینوں سے ڈی کے شیوکمار کے ساتھ رابطے میں ہیں۔حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے، لیکن یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کملا ہیرس نے راہل گاندھی سے بھی فون پر بات کی تھی اور حالیہ دنوں ہندوستان میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے کانگریس صدر سے ملاقات کی تھی۔

سابق امریکی صدر براک اوباما نے کملا ہیرس کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق براک اوباما اور مشیل اوباما نےفون کال پر کملاہیرس کی حمایت کا اعلان کیا۔براک اوباما نے کہا کہ آپ کی حمایت، وائٹ ہاؤس تک پہنچنے میں مدد کرنے کیلئے فخر محسوس کر رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ اوبامہ کے والد کا تعلق کینیا سے تھا، ان کا نام باراک حسین اوبامہ سینئر تھا۔ وہ اپنی تعلیم کے لیے یونیورسٹی آف ہوائی آئے، جہاں ان کی پہلی بار این ڈنھم (اوبامہ کی والدہ) سے 1960 میں ملاقات ہوئی۔دونوں ایک دوسرے سے اس وقت ملے جب روسی زبان کی کلاس چل رہی تھی، محبت ہو گئی اور شادی کر لی۔