Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Violence

بھارت کی وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کے قتل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقلیتوں کے تحفظ اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھائے تھے۔ وزارت خارجہ کے مطابق آزاد ذرائع کے جائزوں میں محمد یونس کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے دور میں اقلیتوں کے خلاف 2900 سے زائد تشدد کے واقعات درج کیے گئے ہیں، جن میں قتل، آتش زنی اور زمینوں پر قبضے جیسے جرائم شامل ہیں۔

پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور مبینہ مظالم پر اب بھارت میں آوازیں تیز ہونے لگی ہیں۔ کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے مودی حکومت سے اس معاملے میں سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آر ایس ایس کی شاخ مسلم راشٹریہ منچ نے بنگلہ دیش میں جاری تعطل پرجاری اپنے بیان میں کہا کہ خاموشی بھی جرم ہے۔ منچ نے  اقلیتوں پر مظالم کے خلاف بھارتی مسلمانوں سے آواز بلند کرنے کی اپیل

بنگلہ دیش میں عثمان ہادی کی موت کے بعد پورے ملک میں پُرتشدد احتجاج ہو رہے ہیں۔ میڈیا ہاوس کو جلا دیا، ہندوستانی ہائی کمیشن اورشیخ مجیب الرحمٰن کے گھرپر بھی حملہ ہوا۔ بنگلہ دیش میں ہندوستانی ہائی کمیشن نے جمعہ کے روز نوٹس جاری کرکے بنگلہ دیش میں رہنے والے ہندوستانی برادری کے اراکین اور ہندوستانی طلبا سے سفرسے بچنے کی اپیل کی ہے۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ غازی پور ضلع میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی) کے دو گروپوں میں پارٹی کے نامزدگی فارم کو لے کر خوفناک تصادم ہوئی، جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے۔

سٹی یونیورسٹی کے رجسٹرار اختر حسین نے کہا کہ بیرولیا میں ہمارے کیمپس کے قریب واقع ڈیفڈل یونیورسٹی کے طلبہ اور ہمارے طلبہ کے درمیان کسی بات پر جھگڑا ہو گیا۔ ڈیفڈل یونیورسٹی کے کچھ طلبہ نے ہمارے کیمپس میں آگ لگا دی اور کئی گاڑیوں کو جلا دیا۔

فیس بک لائیو کے ذریعے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہاکہ میں بنگلہ دیش کے لوگوں سے انصاف چاہتی ہوں۔ کیا میں نے اپنے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا؟ پھر اتنی توہین کیوں؟ میری بہن اور میں جو واحد یاد سے جڑے ہوئے ہیں وہ مٹ جانے کی ہے۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی راجیشور سنگھ کے افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے پوسٹ میں راجیشور سنگھ نے کہا کہ ’بنگلہ دیش کی عارضی حکومت کی جانب سے اسکون جیسی امن پسند اور ثقافتی تنظیموں کو نشانہ بنانا اور اس کے مذہبی رہنماؤں کی گرفتاری انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔

بنگلہ دیش میں سنت چنمے کرشن داس کی گرفتاری سے متعلق تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے بڑھتے ہوئے تشدد اور حقوق انسانی کی خلاف ورزی سے متعلق بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ میں اقتدار حاصل کرنے والے لوگ ہر علاقے میں ناکام ہورہے ہیں۔

شیخ حسینہ نے کہا کہ اگر میں ملک میں رہتی تو مزید جانیں ضائع ہوتیں، اور زیادہ وسائل تباہ ہوتے، میں نے چھوڑنے کا بہت مشکل فیصلہ کیا، میں آپ کی لیڈر بنی، کیونکہ آپ نے مجھے منتخب کیا، آپ میری طاقت تھے۔